بدزبان وبدکلام ناشزہ عورت کو طلاق دینا !

(فتویٰ نمبر: ۲۲۱)

سوال:

زاہدہ کی شادی تقریباً چھ سال پہلے بکر سے ہوئی تھی، اس درمیان زاہدہ کو ایک بچی بھی ہوئی جس کی عمر تین سال ہے ،لیکن زاہدہ کی شادی جب سے بکر کے ساتھ ہوئی ہے تب سے بکر اس کی عادت سے بے حد پریشان ہے، اس کی کچھ نازیبا حرکتیں تحریر کی جارہی ہیں:

 بکر کودو مرتبہ دانت سے کاٹی،کبھی دھمکی دیتی ہے کہ بچی کو ما رڈالوں گی، اورایک بار مارنے کی بھی کوشش کی ، ایک مرتبہ زہر کھاکر خود کشی کرنے کی کوشش کی، بکر کی اجازت کے بغیر کہیں بھی نکل کر چلی جاتی ہے، ہم نے اس کی خبر اس کے چچا کو کی،اس کے چچا نے پوچھا کہاں گئی تھی؟ تو کہنے لگی کہ دھگڑے یعنی عاشق کے پاس گئی تھی، زاہدہ اپنے ساس سسر کی خدمت تو دور بلکہ بدزبانی وبد کلامی سے مخاطب ہوتی ہے، اپنے شوہر کی خدمت یا فریضہ تو دور کی بات، اگر شوہر دوپہر کوچائے بناکر مانگے، تو جواب دیتی ہے کہ خو دچائے نہیں پیتی تو تم کو کیوں چائے بناکر دوں؟اسی طرح صبح ۹/ بجے سوکر اٹھتی ہے، رات میں دیر رات تک ٹی وی دیکھتی ہے، اور بکر سے کہتی ہے کہ میں تمہارے ماں باپ کی غلام یا نوکرانی نہیں ہوں، حتی کہ بکر کے ساتھ ساتھ بکرکے دوسرے رشتے داروں کو بھی کئی طرح کی دھمکیاں دیتی ہے۔

بکر نے شریعتِ مطہرہ کے تحت رہ کر ہرممکن زاہدہ کو سمجھانے کی کوشش کی،یہاں تک کہ اس کے والدین کے ذریعے سختی بھی کروائی، مگر اس کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی ہے، اور اپنے والد سے کہہ رہی تھی کہ مجھے طلاق دلوادو،میں بکر کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی، اس کے بچے بھی پیدا کرنا نہیں چاہتی؛ لہٰذا کتاب وسنت کی روشنی میں براہِ کرم جواب عنایت فرمائیں کہ ایسی عورت کو طلاق دینا درست ہے یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

آپ نے سوال میں جو باتیں تحریر کی اگر وہ صحیح ہیں، تو آپ کے لیے اپنی بیوی (زائدہ)کو طلاق دینا جائز ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وقولهم : الأصل فیه الحظر ، معناه أن الشارع ترک هذا الأصل فأباحه ، بل یستحب لو موٴذیة أو تارکة صلاة ۔ غایة ۔ ومفاده أن لا إثم بمعاشرة من لا تصلي ، ویجب لو فات الإمساک بالمعروف ۔ (در مختار) ۔ (۳۱۴/۴ ، ۳۱۶ ، کتاب الطلاق)

ما في ” البحر الرائق “ : وفي غایة البیان : یستحب طلاقها إذا کانت سلیطة موذیة ، أو تارکة للصلاة لا تقیم حدود اللّٰه تعالی ۔ (۴۱۴/۳ ، کتاب الطلاق)

ما في ” النهر الفائق “ : ویکون (الطلاق) مستحبًا ، وهو ما إذا کانت موٴذیة أو تارکةً للصلاة لا تقیم حدود اللّٰه تعالی ۔ (۳۱۰/۲ ، کتاب الطلاق) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۵/۹ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔