بس اسٹینڈ یا ریلوے اسٹیشن پر نماز پڑھنا

مسئلہ:

اگر کوئی شخص اپنے گھر سے سفرِ شرعی (یعنی تقریبًا ساڑھے ستہتر کلو میٹر) کے ارادے سے نکل کر بس اسٹینڈ یا ریلوے اسٹیشن پہنچے، ابھی بس یا ٹرین کے آنے میں دیر ہے، اور وہاں وقتیہ نماز پڑھنا چاہتا ہے، تو وہ پوری نماز پڑھے گا یا قصر کرے گا؟ اس کا مدار اس پر ہے کہ شہر کی آبادی بس اسٹینڈ یا ریلوے اسٹیشن تک مسلسل ہے یا نہیں؟ اگر مسلسل ہے تو وہ نماز پوری پڑھے گا ، اس لیے کہ وہ ابھی مسافر نہیں ہوا، اور اگر مسلسل نہیں ہے، یعنی بس اسٹینڈ یا ریلوے اسٹیشن شہر کی آبادی سے کچھ باہر دوری پر واقع ہے، تو وہ قصر کرے گا، اس لیے کہ اب وہ مسافر ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : من خرج من عمارة موضع إقامته قاصدًا مسیرة ثلاثة أیام ولیالیها بالسیر الوسط مع الاستراحات المعتادة صلی الفرض الرباعي رکعتین ۔تنویر مع الدر۔ قال العلامة ابن عابدین رحمه الله تعالی:قوله:(ولا اعتبار بالفراسخ) الفرسخ: ثلاثة أمیال، والمیل:أربعة آلاف ذراع ۔۔۔۔ قال في الهدایة:هو الصحیح احترازًا عن قول عامة المشایخ من تقدیرها بالفراسخ،ثم اختلفوا فقیل أحد وعشرون،وقیل ثمانیة عشر، وقیل خمسة عشر،والفتوی علی الثاني لأنه الأوسط۔(۵۹۹/۲- ۶۰۳، باب صلاة المسافر)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : أقل مسافة تتغیر فیها الأحکام ثلاثة أیام ۔ کذا في التبیین ۔ هو الصحیح ۔ کذا في جواهر الأخلاطي ۔۔۔۔ قال محمد رحمه الله تعالی: یقصر حین یخرج من مصره ویخلف دور المصر ۔ کذا في المحیط ۔ وفي الغیاثیة: هو المختار، وعلیه الفتوی ۔ کذا في التتارخانیة، الصحیح ما ذکر انه یعتبر مجاوزة عمران المصر لاغیر إلا إذا کان ثمة قریة أو قری متصلة بربض المصر فحینئذ تعتبر مجاوزة القری بخلاف القریة التي متصلة بفناء المصر فإنه یقصر الصلاة وإن لم یجاوز تلک القریة ۔ کذا في المحیط ۔

(۱۳۸/۱۔۱۳۹، الباب الخامس عشر في صلاة المسافر)

ما في ” حلبي کبیر “ : من فارق بیوت موضع هو فیه من مصر أو قریة ناویًا الذهاب إلی موضع بینه وبین ذلک الموضع المسافة المذکورة صار مسافرًا، فلا یصیر مسافرًا قبل أن یفارق عمران ما خرج منه من الجانب الذي خرج منه حتی لوکان ثمة محلة منفصلة عن المصر وقد کانت متصلة به لا یصیر مسافرًا ما لم یجاوزها ولو جاوز العمران من جهة خروجه وکان بحذائه محلة من الجانب الآخر یصیر مسافرًا إذ المعتبر جانب خروجه وإن کان هناک قریة متصلة بربض المصر فلا بد من مجاوزتها علی الصحیح۔

(ص:۵۳۶-۵۳۷، فصل في صلاة المسافر، البحر الرائق: ۲۲۶/۲، باب صلاة المسافر، المحیط البرهاني: ۱۲۷/۲، الفصل الثاني والعشرون في صلاة المسافر، نوع آخر في بیان المسافر متی یقصر الصلاة ، بدائع الصنائع: ۲۶۱/۱، فصل في بیان ما یصیر به المقیم مسافرًا)

ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن یحی بن یزید الهنائي قال: سألت أنس بن مالک عن قصر الصلاة، فقال: ” کان رسول الله ﷺ إذا خرج مسیرة ثلاثة أمیال أو ثلاثة فرسخ (شعبة الشّاکُّ) صلی رکعتین“۔(۲۴۲/۱، کتاب صلاة المسافرین وقصرها، فصل في القصر في السفر الخ، رقم الحدیث: ۶۹۱)

(فتاویٰ محمودیه:۵۶۴/۱۱، میرٹھ ، خیر الفتاویٰ:۶۶۹/۲)

اوپر تک سکرول کریں۔