مسئلہ:
برادرانِ وطن اور مشرکانہ ماحول سے متأثر ہونے کی وجہ سے آج کل بہت سے مسلم گھرانوں میں بھی توہمات نے جڑ پکڑ رکھی ہے کہ کھڑا ہوکر کنگھی کی جائے تو تہمت لگے گی، چھپکلی گھر میں آئے تو ایمان کمزور ہوگا، دودھ اُبل جائے تو نقصان ہوگا، تیل گرے تو فائدہ ہوگا، ٹوٹا ہوا آئینہ نہیں دیکھنا چاہیے ، جھاڑو کھڑی رکھنے میں گھر میں جھگڑے ہوں گے، جامن کا درخت گھر میں ہو تو غربت آئے گی وغیرہ وغیرہ،شرعاً ان کی کوئی اصل نہیں ہے، کیوں کہ ہم مسلمان ہیں، اور ہمارا عقیدہ ہے کہ نافع اور ضار صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے، اس کی ذات کے سوا نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع، اگر شریعت نے کسی عمل کا کوئی نفع یا نقصان بتلایا ہے ، تو اس کے پیچھے بھی اللہ کا حکم ہی کار فرما ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿قل لن یُّصِیبَنا إلا ما کَتبَ اللّه لَنا هو مَوْلٰنا وعلَی الله فَلْیتوَکَّلِ الْمُوٴمِنُونَ﴾۔ (سورة التوبة : ۵۱)
ما في ” روح المعاني “ : أي لن یصیبنا إلا ما حظَّ الله تعالی لأجلنا في اللوح، ولا یتغیر موافقتکم ومخالفتکم، فتدل الآیة علی أن الحوادث کلها بقضاء الله تعالی۔ (۱۶۶/۶)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي هریرة قال: سمعتُ رسول الله ﷺ یقول: ”لا طِیرة وخیرها الفال “۔ (ص:۳۷۷ ، باب الفال والطیرة، الفصل الأول، رقم الحدیث: ۴۵۷۶)
ما في ” مرقاة المفاتیح “ : قال الشیخ محمد القاري قلت: المستفاد من القاموس أن الفال مختص بالخیر، وقد یستعمل في الشر، والطیرة لا تستعمل إلا في الشر، فهما ضدان في أصل الوضع ۔۔۔۔۔۔ لا یجوز العمل بالطیرة وهي التفاوٴل بالطیر، والتشاؤم بها، کانوا یجعلون العبرة في ذلک تارة بالأسماء، وتارة بالأصوات، وتارة بالسنوح والبروح۔
(۳۹۱/۸ ، باب الفال والطیرة)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : قد اتفق أهل التوحید علی تحریم التطیر ونفي تاثیره في حدوث الخیر والشر لما في ذلک من الإشراک بالله في تدبیر الأمور۔ (۱۸۳/۱۲)
