بوقتِ ذبح عربی زبان میں ”بسم اللہ “ کہنا

مسئلہ:

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بوقت ذبح ” بسم اللہ “ کا بزبان عربی کہنا ضروری ہے، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ تسمیہ کسی بھی زبان میں ہو ، خواہ ذابح (ذبح کرنے والا) عربی جانتا ہو یا نہ جانتا ہو ط دونوں صورتوں میں قربانی ہوجائے گی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” بدائع الصنائع “ :سواء کانت التسمیة بالعربیة أو بالفارسیة أو أی لسان کان، وهو لا یحسن العربیة أو یحسنها، کذا روی بشر عن أبی یوسف: لو أن رجلاً سمی علی الذبیحة بالرومیة أو الفارسیة، وهو یحسن العربیة أو لا یحسنها أجزاه ذلک عن التسمیة۔

(۱۶۹/۴، کتاب الذبائح والصید، فصل فی شرط حل الأکل فی الحیوان المأکول، الفتاوی الهندیة: ۲۸۵/۵، کتاب الذبائح ، الباب الأول فی رکنه وشرائطه)

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : والشرط فی التسمیة هو الذکر الخالص بأی إسم کان مقرونا بصفة کألله أکبر أو أجل أو أعظم ۔۔۔۔۔ جهل التسمیة أو لا بالعربیة أو لا، ولو قادراً علیها۔(۳۶۴/۹، کتاب الذبائح)

اوپر تک سکرول کریں۔