(فتو یٰ نمبر: ۹۳)
سوال:
۱-کیا بوقتِ عقدِ نکاح نوشہ کو سہرا باندھنا شرعاً درست ہے یا نہیں ؟
۲– اگر کوئی نوشہ بوقتِ عقدِنکاح سہرا باندھ کر آئے، تو کیا امام وقاضی اس کو اتار کر نکاح پڑھائے؟ اوراگر اس پر کوئی نکیر نہ کرے، تو کیا امام وقاضی شرعاً گنہگار ہوں گے ؟
۳– عقدِ نکاح سے کچھ دن پہلے گلے میں چھری باندھنا ،یا ہاتھ میں چھری لینا ازروئے شرع کیا حکم رکھتا ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱– نوشہ کے سر پر سہرا باندھنا خالص ہندوستانی غیر مسلمانہ رسم اور ایک غیر اسلامی فعل ہے، جس سے اجتناب واحتراز اَز حد لازم وضروری ہے، کیوں کہ اس میں کافروں کی عادات واطوار میں مشابہت اختیار کرنا لازم آتا ہے، جو شرعاً ممنوع ہے ۔(۱)
۲– سہرا اُتارے بغیر نکاح پڑھائے تب بھی نکاح صحیح ہوتا ہے، البتہ اگر امر بالمعروف کی صورت میں غالب گمان یہ ہو کہ نوشہ امام یا قاضی کی بات مان لے گا، تو ترکِ امر بالمعروف جائز نہیں ہے، اور اگر امر بالمعروف کی صورت میں غالب گمان یہ ہو کہ وہ امام یاقاضی کی توہین کرے گا،یا اس کے ساتھ جھگڑا وفساد ہوگا اور وہ اپنی توہین کو برداشت نہیں کرسکے گا،یا فتنہ وفساد واقع ہوگا،تو امر بالمعروف کا ترک افضل ہے۔
اور اگر یہ معلوم ہو کہ امر بالمعروف کی صورت میں امام یا قاضی کو اذیت وتکلیف اور ضرر ونقصان برداشت کرنا ہوگا،اور یہ اذیت وتکلیف، ضرر ونقصان متعدی الی الغیر نہیں ہوگا، تو امر بالمعروف کرنے میں کوئی حرج ومضائقہ نہیں،اور وہ اس سلسلے میں مجاہدِدین کہلائے گا، اور اگر یہ معلو م ہو کہ امر بالمعروف کی صورت میں امام یا قاضی کی بات مانی نہیں جائے گی، لیکن ان کی طرف سے جھگڑا وفساد اور سب وشتم (گالی گلوچ)کا خوف واندیشہ نہ ہو، تو اس صورت میں امام وقاضی امر بالمعروف اور ترکِ امر بالمعروف کے سلسلے میں مختار ہوں گے، البتہ امربالمعروف افضل ہے۔(۲)
۳– نکاح کے دن نوشہ کے ہاتھ میں چاقو دینا اورگلے میں چاقو وغیرہ لٹکانا محض جاہلانہ اور بے معنی رسم ہے، نکاح جو ایک دینی ومذہبی عبادت ہے اس میں ایک نئی بات ایجاد کرناہے،جوشرعاً درست نہیں ہے، اور فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق قابلِ رد ہے؛ اس لیے اس طرح کی غیرشرعی رسموں سے بچنا لازم ہے۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿ولا ترکنوٓا إلی الذین ظلموا فتمسکم النار﴾ ۔ (سورة هود :۱۱۳)
ما في ” التفسیرللمظهري “ : قال ابن عباس : أي لا تمیلوا ، والرکون المحبة والمیل بالقلب ، وقال أبو العالیة : لا ترضوا بأعمالهم ، وقال عکرمة : لا تطیعوهم ، قال البیضاوي : لا تمیلوا إلیهم أدنی میل ، فإن الرکون هو المیل الیسیر کالتزین بزیهم وتعظیم ذکرهم ۔ (۴۳۰/۴)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : قال النبي ﷺ : ” أبغض الناس إلی اللّٰه ثلاثة : ملحد في الحرم، مبتغ في الإسلام سنة الجاهلیة ، ومطلب دم امرئ مسلم بغیر حق لیهریق دمه “ ۔ رواه البخاري ۔ (ص/۲۷)
ما في ” مرقاة المفاتیح “ : ” من تشبه بقوم فهو منهم “ ۔ أي من شبه نفسه بالکفار مثلا في اللباس وغیره ، أو بالفساق والفجار ، أو بأهل التصوف والصلحاء والأبرار ۔
(۲۲۲/۸ ، کتاب اللباس)
(۲) ما في ” تبیین الحقائق “ : ثم الأمر بالمعروف فرض إن کان یغلب علی ظنه أنه یقبل منه ، ولا یسعه ترکه ، ولو علم أنه یهان بذلک أو یضر ، وهو لا یصبر علی ذلک ، أو تقع الفتن فترکه أفضل ، ولو علم أنه یصبر علی الضرب والضرر ، ولم یصل إلی غیره بذلک ضرر فلا بأس به ، وهو مجاهد بذلک ، ولو علم منهم أنهم لا یقبلون عنه ولا یخاف منهم ضربًا ولا شتمًا فهو بالخیار ، والأمر أفضل ۔(۳۴۸/۶ ، کتاب الغصب ، البحر الرائق : ۲۲۶/۸ ، کتاب الغصب)
(۳)ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن عائشة – رضي اللّٰه عنها – قالت : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” من أحدث في أمرنا ما لیس منه فهو ردٌّ “۔متفق علیه۔
(ص/۲۷،کتاب الإیمان،الفصل الأول)فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۶/۱۴ھ
الجواب الصحیح: عبد القیوم اشاعتی ۔۱۴۲۹/۶/۱۴ھ
