بچوں کو ریشمی کپڑا پہنانا

مسئلہ:

بعض عورتیں اپنے بچوں کو ریشم کا کپڑا پہناتی ہیں، اور کہتی ہیں کہ یہ ابھی بچہ ہے، ان کا یہ عمل درست نہیں ہے، کیوں کہ مردوں کے لیے ریشم اور سونے کااستعمال حرام ہے، نبی کریم ﷺ نے ان دونوں چیزوں کے بارے میں فرمایا: ” یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں کے لیے حرام ہیں“(۱)، آپ کا یہ ارشاد چوں کہ عام ہے، اس لیے حضراتِ فقہاء کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ جس طرح ان چیزوں کا استعمال بالغ مردوں کے لیے حرام ہے ، اسی طرح نابالغوں کے لیے بھی اس کی ممانعت ہے(۲)، اس کے باوجود اگر نابالغ بچہ کو اس کے ذمہ داراِن چیزوں کا استعمال کرائیں ، تو وہی گنہگار ہوں گے، کیوں کہ ان کا فرض تھا کہ ان چیزوں سے بچوں کی حفاظت کریں۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” السنن لأبي داود “ : عن عبد الله بن زُریر یعني الغافقي أنه سمع علي بن أبي طالب یقول: إن نبي الله أخذ حریرًا فجعله في یمینه، وأخذ ذهباً فجلعه في شماله، ثم قال: ” إن هذین حرامٌ علی ذکور أمتي “۔ (ص:۵۶۱ ، کتاب اللباس، باب في الحریر للنساء، رقم الحدیث: ۴۰۵۷، قدیمي)

(۲) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وما یکره للرجال لبسه یکره للغلمان والصبیان، لأن النص حرّم الذهب والحریر علی ذکور أمته بلا قید البلوغ والحریّة۔

(۳۳۱/۵، کتاب الکراهیة، الباب التاسع في اللبس وما یکره من ذلک)

ما في ” البحر الرائق “ : وکره إلباس ذهب وحریر صبیاً، لأن التحریم لما ثبت في حق الذکورحرم اللبس حرم الإلباس، کالخمر لما حرم شربها حرم سقیها للصبي۔

(۳۵۰/۸، کتاب الکراهیة، بیروت)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وکره إلباس الصبي ذهباً أو حریرًا، فإن ما حرّم لبسه وشربه حرّم إلباسه وإشرابه ۔ الدر المختار ۔ قال الشامي: قوله: (کره) لأن النص حرّم الذهب والحریر علی ذکور الأمة بلا قید البلوغ والحریّة۔ (۵۲۲/۹، کتاب الحظر والإباحة، بیروت)

(۳) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : والإثم علی من ألبسهم لأنا أمرنا بحفظهم ۔ کذا في التمرتاشي ۔

(۳۳۱/۵، الباب التاسع في اللبس ما یکره من ذلک، رد المحتار: ۵۲۲/۹، کتاب الحظر والإباحة)

اوپر تک سکرول کریں۔