بچہ کا نام کب رکھا جائے ؟

مسئلہ:

اسلام نے باپ پر بچے کے جن حقوق کو بیان کیا ہے ، ان میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بچے کا اچھا نام رکھے، بچہ کی پیدائش کے بعد اس کا نام کب رکھا جائے اس سلسلے میں دو طرح کی روایتیں ملتی ہیں، بعض روایتوں میں پیدائش کے دن ہی نام رکھنے کا ثبوت ملتا ہے(۱)، جب کہ دیگر میں یہ ثبوت ملتا ہے کہ آپ ﷺ نے پیدائش کے ساتویں روز نام رکھنے کا حکم دیاہے(۲)، امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی مہتم بالشان تصنیف ”صحیح بخاری“ میں اِن دونوں طرح کی روایتوں پر ایسا باب قائم کیا ہے ، جس سے دونوں طرح کی روایتوں میں تطبیق ہوجاتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ جو شخص ولادت کے ساتویں روز عقیقہ کا ارادہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ ساتویں دن نام رکھے، اور جو یہ ارادہ نہ رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ ولادت کے دن ہی اپنے بچے کا نام رکھ لے، شارحِ بخاری علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: ” یہ بڑی عمدہ اور بہترین تطبیق ہے، جسے میں نے بخاری کے علاوہ اور کہیں نہیں دیکھا۔“(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن أبي موسی قال : ” وُلد لي غلامٌ فأتیتُ به النبي ﷺ فسمّاه ابراهیم وحنّکه بتمرة “۔

(۲۰۹/۲، کتاب الآداب، باب استحباب تحنیک المولود عند ولادته وحمله إلی صالح یحنکه وجواز التسمیة یوم ولادته الخ، قدیمي)

ما في ” شرح النووي علی هامش مسلم “ : وفیه جواز التسمیة یوم الولادة۔ (۲۰۹/۲)

(۲) ما في ” جامع الترمذي “ : عن عمرو بن شعیب، عن أبیه، عن جده: ” أن النبي ﷺ أمر بتسمیة المولود یوم سابعه ووَضْعِ الأذی عنه والعَقَّ “ ۔ هذا حدیث حسنٌ غریبٌ ۔ (۱۱۰/۲، أبواب الآداب ، باب ما جاء في تعجیل اسم المولود، قدیمي)

(۳) ما في ” فتح الباري “ : قال ابن الحجر: من لم یرد أن یعق عنه لا یوٴخر تسمیته إلی السابع، ومن یرید أن یعق عنه توٴخر تسمیته إلی السابع وهو جمع لطیف لم أره لغیره البخاري۔ (۷۲۷/۹، کتاب العقیقة، صحیح البخاري: ۸۲۱/۲، قدیمي)

(اتحاف أولي الألباب بحقوق الطفل وأحکامه:ص/۱۰۸)

اوپر تک سکرول کریں۔