بچہ کو دودھ پلانا ناقضِ وضو نہیں

مسئلہ:

بعض عورتیں یہ خیال کرتی ہیں کہ وضو کے بعد بچہ کو دودھ پلانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ، یہ خیال سراسر غلط ہے ، بچہ کو دودھ پلانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ، کیوں کہ سبیلین کے علاوہ بدنِ انسانی سے ہر نکلنے والی چیز وضو کو نہیں توڑتی ، بلکہ وہی چیز ناقضِ وضو ہوتی ہے جو نجس ہو او رنکل کر جسم کے ایسے حصے کی طرف بہے جس کا وضو یا غسل میں دھونا فرض ہے، جب کہ دودھ پاک ہے ، اور پاک چیز کے نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’مختصر القدوري‘‘: وناقضه ما خرج من السبیلین أو غیره إن کان نجساً سال إلی ما یطهر ۔(۲۹/۱، نواقض الوضوء)

ما في ’’الاختیار لتعلیل المختار‘‘: وینقضه کل ما خرج من السبیلین ومن غیر السبیلین إن کان نجساً وسال عن رأس الجرح۔(۱۴/۱)

ما في ’’البحر الرائق‘‘: کان جمیع ما یخرج من بدن الإنسان من النجاسة ناقضاً معتاداً أو غیر معتاد۔ (۶۱/۱)

ما في ’’ الشامیة ‘‘: وینقضه خروج نجس منه أي من المتوضئ الحي معتاداً أو لا من السبیلین أو لا إلی ما یطهر أي یلحقه حکم التطهیر۔(۲۳۵/۱،مطلب في نواقض الوضوء)

ما في ’’البدائع الصنائع‘‘: وخروج الطاهر لا یوجب انتقاض الطهارة وإنما انتقاض الطهارة بما یخرج بخروجها من أجزاء النجس۔(۱۲۲/۱، کتاب الطهارة ، نواقض الوضوء)

(فتاوی امارتِ شرعیه:۶۶/۲)

اوپر تک سکرول کریں۔