بچہ یا بچی پر سجدۂ تلاوت

مسئلہ:

اگر بچہ یا بچی آیتِ سجدہ کی تلاوت کرے، یا کسی دوسرے سے آیتِ سجدہ کو سن لے، تو ان پرسجدہٴ تلاوت کا ادا کرنا ضروری نہیں ہے، کیوں کہ سجدہٴ تلاوت کے واجب ہونے کے لیے اہلیتِ سجدہ ضروری ہے، اور بچہ یا بچی میں اس کی اہلیت نہیں ہے، لیکن اگر کوئی عاقل بالغ شخص آیتِ سجدہ کو کسی بچہ یا بچی سے سنے تو وجوبِ سجدہ میں یہ تفصیل ہے کہ اگر یہ بچہ یا بچی سنِ شعور وتمیز کو پہنچ گئے ہیں، تو اس سننے والے شخص پر سجدہٴ تلاوت واجب ہوگا ، ورنہ نہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح “ : قوله: (وصبي ممیز) في الفتح: ذکر شیخ الإسلام أنها لا تجب بالسماع من مجنون، أو نائم، لأن السبب سماع تلاوة صحیحة، وصحتها بالتمییز، ولم یوجد اه۔ قال: وهذا التعلیل یفید التفصیل في الصبي إن کان له تمییز وجب بالسماع منه وإلا فلا ، فلیکن هو المعتبر اه۔

(ص:۴۸۴، کتاب الصلاة، باب سجود التلاوة، مکتبة شیخ الهند بدیوبند)

ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (فلا تجب علی کافر وصبي ومجنون وحائض ونفساء، قروٴوا أو سمعوا) لأنهم لیسوا أهلا لها (وتجب بتلاوتهم) ۔ الدر المختار مع التنویر ۔ وفي الشامیة: قوله: (وتجب بتلاوتهم) أي وتجب علی من سمعهم بسبب تلاوتهم ۔۔۔۔۔ قال في الفتح: لکن ذکر شیخ الإسلام أنه لا یجب بالسماع من مجنون أو نائم أو طیر، لأن السبب سماع تلاوة صحیحة وصحتها بالتمییز، ولم یوجد، وهذا التعلیل یفید التفصیل في الصبي فلیکن هو المعتبر إن کان ممیزًا وجب بالسماع منه، وإلا فلا اه۔ واستحسنه في الحلیة۔ (۵۸۱/۲، کتاب الصلاة، باب سجود التلاوة، بیروت)

اوپر تک سکرول کریں۔