مسئلہ:
نمازِ جمعہ کے لیے خطبہ شرط ہے(۱)، لہٰذا خطبہ کے لیے عاقل ، بالغ اور صالح آدمی زیادہ مناسب اور بہتر ہے، تاہم اگر کوئی ذی شعور مراہق جو خطبہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہو، خطبہ دے، اور بالغ آدمی نماز پڑھائے ، تب بھی درست ہے(۲)، نیز افضل اور اشہر یہی ہے کہ امام اور خطیب ایک ہی ہو۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” مجمع الأنهر “ : لا تصح الجمعة إلا بستة شروط ۔۔۔۔۔ الخطبة قبلها، أي قبل الجمعة، فلو صلی ثم خطب لا تصح، لأنها شرط۔
(۲۴۶/۱، کتاب الصلاة، باب الجمعة، خلاصة الفتاوی: ۲۰۵/۱)
(۲/۳) ما في ” منحة الخالق علی البحر الرائق “ : اختلف المشایخ فیه، والخلاف في صبي یعقعل فما هنا علی أحد القولین، وما سیأتي عن المجتبی مبني علی الآخرة، قال الشیخ إسماعیل: والأکثر علی الجواز۔ (۲۶۰/۲، کتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : لا ینبغي أن یصلي غیر الخطیب، لأنهما کشيء واحد، فإن فعل بأن خطب صبيّ بإذن السلطان وصلی بالغ جاز ۔ الدر المختار ۔ قال الشامي: في الظهیریة: لو خطب صبيّ اختلف المشائخ فیه، والخلاف في صبيّ یعقل، والأکثر علی الجواز۔
(۳۹/۳-۴۰، کتاب الصلاة، باب الجمعة، بیروت، الفتاوی الهندیة:۱۴۷/۱، کتاب الصلاة، الباب السادس عشر في الجمعة)
(فتاویٰ محمودیه:۲۱۶/۸، کراچی)
