مسئلہ:
بچے گلشن حیات کے مہکتے پھول اور قدرت کا انمول تحفہ ہیں، تحفہ جس قدر بڑا ہو اور جتنی عظیم ہستی کی طرف سے ہو اتنی ہی اُس کی قدر کی جاتی ہے، اور اس کا حق ادا کیا جاتا ہے، اولاد کا حق والدین پر یہ ہے کہ اس کے لیے اچھی ماں کا انتخاب کیا جائے، اس کا اچھا نام رکھا جائے، اسے کتاب اللہ کی تعلیم دی جائے، اس کی نشو ونُما اور ترقی کے لیے وہ تمام ذرائع مہیا کیے جائیں جو اس کی استطاعت میں ہوں، اپنی مالی حیثیت کے مطابق مکان، غذا اور کپڑے لَتّے کا حلال طریقہ سے انتظام کریں، اس کی بہترین پرورش کریں، ان کو اچھے اخلاق سے آراستہ کریں، اور بری صحبتوں سے انہیں روکیں، سات سال کی عمر تک انہیں نماز اور اخلاق کے بنیادی اُصول سکھا اور سمجھا دیں۔
مذہبِ اسلام میں اولاد کی پرورش میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ والدین بچے کی صرف دنیا ہی نہیں، بلکہ آخرت سنوارنے کی فکر بھی پہلے دن سے کرتے رہیں، وغیرہ، والدین کی جانب سے اولاد کے اِن حقوق میں کوتاہی کے سبب اولاد ان کے لیے وبالِ جان بن جاتی ہے، اور پھر والدین اپنی اولاد کی نافرمانی اور اُن کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں کا رونا روتے پھرتے ہیں، یہ نہیں سوچتے کہ در اصل یہ نتیجہ ہے اولاد کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی وغفلت کا، لہٰذا والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو اُن کے حقوق دیں، ان شاء اللہ اولاد کی طرف سے انہیں ان کے حقوق ضرور ملیں گے، اور یہ اولاد دنیا وآخرت میں اپنے والدین کے لیے سرخ روئی ونجات کا ذریعہ بنے گی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” تربیة الأولاد في الإسلام “ : جاء رجل إلی أمیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضي الله عنه یشکو إلیه عقوق ابنه فأحضر عمر بن الخطاب رضي الله عنه ابنه وأنبه علی عقوقه لأبیه فقال الإبن: یا أمیر المؤمنین! ألیس للولد حقوق علی أبیه؟ قال: بلی! قال: فما هي یا أمیر المؤمنین؟ قال: أن ینتقي أمه، ویحسن اسمه، ویعلّمه الکتاب (القرآن)، فقال الإبن: یا أمیر المؤمنین! إنه لم یفعل شیئًا من ذلک، أما أمي فإنها زنجیة کانت لمجوسي، وقد سماني جُعْلا (جعرانًا) ولم یعلمني الکتاب حرفا واحدا فالتفت أمیر المؤمنین إلی الرجل وقال له: ” أجئت إليّ تشکو عقوق ابنک وقد عققته قبل أن یعقک وأساء ت إلیه قبل أن یسيء إلیک “۔(۱۲۷/۱۔۱۲۸، احسان عُتَیبِي، موقع مقالات اسلام ویب)
ما في ” تفسیر القرطبي “ : وقال بعض العلماء لما قال: ﴿قوا انفسکم﴾ دخل فیه الأولاد، لأن الولد بعض منه کما دخل في قوله تعالی: ﴿ولا علی أنفسکم أن تأکلوا من بیوتکم﴾ فلم یفردوا بالذکر إفراد سائر القربات، فیعلمه الحلال والحرام ، ویجنبه المعاصي والآثام، إلی غیر ذلک من الأحکام، وقال علیه السلام: ” حق الولد علی الوالد أن یحسن اسمه ویعلمه الکتاب ویزوجه إذا بلغ “۔ وقال علیه السلام: ” ما نحل والدٌ ولدًا أفضل من أدب حسن “۔ وقد روی عمرو بن شعیب عن أبیه عن جده عن النبي ﷺ: ” مروا ابنائکم بالصلاة لسبع واضربوهم علیها لعشر وفرّقوا بینهم في المضاجع “ خرّجه جماعة من أهل الحدیث، وهذا لفظ أبي داود ۔۔۔۔۔۔ قال الکِیا: فعلینا تعلیم أولادنا وأهلینا الدین والخیر وما لا یستغنی عنه من الأدب۔ (۱۹۵/۱۸۔۱۹۶، سورة التحریم الآیة:۶)
ما في ” اتحاف السادة للمتقین “ : (وقال ﷺ : من حق الولد علی والده أن یحسن أدبه) قال الماوردي: التأدیب یلزم من وجهین؛ أحدهما ما لزم الوالد للولد في صغره، الثاني؛ ما لزم للإنسان في نفسه عند کبره، فالأول أن یأخذ ولده بمبادي الآداب لیستأنس بها وینسأ علیها فیسهل علیه قبولها عند الکبر ۔۔۔۔۔۔ وقال الحلیمي: تحسین أدبه بأن ینشئه علی الأخلاق الحمیدة ویعلمه القرآن ولسان العرب وما لا بد منه من أحکام الدین، فإذا بلغ عرفه الباری بالأدلة التي توصله إلی معرفته من غیر أن یسمعه شیئًا من مقالات الملحدین لکن یذکرها له في الجملة أحیانا ویحذره منها وینظره منها بکل ممکن ۔۔۔۔۔۔ وفي الباب عن أبي هریرة وأبي رافع، أما حدیث أبي رافع فلفظه: ” حق الولد علی والده أن یعلمه الکتابة والسباحة والرمایة وأن لا یرزقه إلا طیبا “ ۔ وفي روایة: ” وأن لا یورثه برزقه إلا طیبا “ رواه الحکیم وأبو الشیخ في الثواب والبیهقي ۔ واسناده ضعیف ۔(۳۱۷/۶۔۳۱۸، کتاب آداب الأخوة والصحبة، حقوق الوالدین والولد، احیاء علوم الدین:۲۱۷/۲، کتاب آداب الألفة والإخوة، حقوق الوالدین والولد)
ما في ” شعب الإیمان للبیهقي “ : فأما الولد فالأصل فیه أنه نعمة من الله وموهبة وکرامة ۔۔۔۔۔۔۔ فکل من ولد له من المسلمین ولد ذکر أو أنثی فعلیه أن یحمد الله جل ثناؤه ۔۔۔۔۔۔۔۔ قال الإمام أحمد رحمه الله: وأما التعلیم والتأدیب فوقتهن أن یبلغ المولود من السن والعقل مبلغا یحتملها، وذلک یتفرع فمنها: أن ینشئه علی أخلاق صلحاء المسلمین ویصونه عن مخالطة المفسدین۔ ومنها: أن یعلمه القرآن ولسان الأدب ویسمعه السنن أو قایل السلف ویعلمه من أحکام الدین ما لا غنی به عنه ۔ اه ۔
(۳۸۹/۶-۳۹۷، باب في حقوق الأولاد والأهلین)
