(فتویٰ نمبر: ۲۲۴)
سوال:
سویابین کا بیج سال میں ایک مرتبہ کھیت میں اُگتا ہے، ہر سال کی پیداوار میں کمی زیادتی ہوتی رہتی ہے،اور اس کا بھاوٴ روزانہ اوپن (Open) ہوتا ہے، کبھی زیادہ اور کبھی کم ہوجاتا ہے، اس بیج کے خریدار چھوٹے بڑے سب تاجر ہوتے ہیں، لیکن بڑے تاجر اس بیج کو اس وقت ذخیرہ کرلیتے ہیں جب اس کا بھاوٴ کم ہوتا ہے، جب ایک اندازے کے مطابق بھاوٴ بڑھ جاتا ہے تب بیچتے ہیں، اور ایسا کرنے سے عوام کو کوئی نقصان نہیں؛ اس لیے کہ تاجروں کو ایک اندازہ ہوتا ہے اسی وقت اس کو بیچتے ہیں، اورکھیت والے( یعنی کسان) کو اندازہ ہوتا ہے قیمت کے کم زیادہ ہونے کا،اور بڑے تاجروں کوسویابین کا ذخیرہ کرنے میں جو اخراجات آتے ہیں، وہ یہ ہیں:
(۱)ایک بڑی رقم ایک مدت تک رُکی رہتی ہے۔
(۲)ا س ما ل کو حاصل کرنے میں کئی گاوٴں گھومنا پڑتا ہے جو مستقل محنت ہے۔
(۳)نیز گودام وغیرہ تیارکرنا اور اس کے اخراجات برداشت کرنا ہوتا ہے۔
(۴)اس کو منتقل کرنے میں اس کاکرایہ برداشت کرنا ہوتا ہے۔
(۵)اسی طرح مزدوری وغیرہ۔
ان اخراجات کی وجہ سے ذخیرہ کرنے والا تاجر مناسب بھاوٴ کا انتظار کرتا ہے،جس وقت مناسب بھاوٴ اوپن (Open) ہوتا ہے اس وقت بیچتا ہے،اوراگر کم بھاوٴ کے وقت بیچا جائے، تو وہ اخراجات بھی نکلنا مشکل ہیں۔
نوٹ-:اس بیج کے ہر گاوٴں دیہات اور شہر میں خریدا ر اور بیچنے والے بھی کثرت سے ہیں،جس کی وجہ سے عوام کو کوئی تکلیف اور مشکل پیش نہیں آتی۔
الجواب وباللہ التوفیق:
جب تاجروں کے اس عمل سے عوام کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور نہ ہی ان کو مشقت وتکلیف کا سامناکرنا پڑتا ہے، تو یہ ذخیرہ اندوزی ممنوع نہیں ہے، لہٰذا ایسا کرنے میں کوئی حرج ومضائقہ نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الاختیار لتعلیل المختار “ : وشرطه : أن یکون مصرًا یضر به الاحتکار؛ لأنه تعلق به حق العامة ۔ اه ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ والحاصل : أن یکون یضر بأهل تلک المدینة حتی لو کان مصرًا کبیرًا لا یضر بأهله فلیس بمحتکر ؛ لأنه حبس ملکه ولا ضرر فیه لغیره ۔
(۴۱۴/۴ ، ۴۱۵ ، کتاب الکراهیة ، فصل في الاحتکار ، مجمع البحرین وملتقی النیرین : ص/۸۲۴ ، کتاب الحظر والإباحة ، مختصر الوقایة : ۲۲۱/۲ ، ۲۲۲ ، کتاب الکراهیة ، الهدایة شرح البدایة :۳۷۶/۴ ، کتاب الکراهیة، فصل في البیع)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (و)کره (احتکار قوت البشر) کتین وعنب ولوز (والبهائم) کتبن وقتٍّ (في بلد یضر بأهله) لحدیث : ” الجالب مرزوق والمحتکر ملعون “ ۔ فإن لم یضر لم یکره ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : عن أبي یوسف : کل ما أضر بالعامة حبسه فهو احتکار ۔
(۵۷۱/۹ ، کتاب الحظر والإباحة ، کتاب الکراهیة ، فصل في البیع ، بدائع الصنائع : ۵۱۵/۶ ، کتاب الاستحسان ، البحر الرائق : ۳۷۰/۸ ، کتاب الکراهیة، فصل في البیع ، تبیین الحقائق : ۶۰/۷ ، کتاب الکراهیة ، فصل في البیع ، مجمع الأنهر في شرح ملتقی الأبحر : ۲۱۳/۴، کتاب الکراهیة ، فصل في البیع ، الموسوعة الفقهیة : ۹۲/۲ ، احتکار)
(فتاویٰ محمودیه:۲۳۴/۱۶،کتاب البیوع،فصل فی الاحتکار،جامع الفتاویٰ:۸۹/۳، أحکام البیوع) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۵/۱۸ھ
