مسئلہ:
جس مقصد کیلئے فصل بوئی جاتی ہو، یعنی جو مقصود بالزرع ہو، تو عشر یا نصفِ عشر اس سے ادا کیا جائیگا، اس کے علاوہ ضمنی طور پر جو چیز حاصل ہو اس کی قیمت گرچہ زیادہ ہو، اس میں عشر یا نصف عشر واجب نہیں، چونکہ گندم اور مکئی کی کاشت سے مقصود غلہ (اناج) ہوتا ہے، اس لئے اس کے بھوسا یا گھاس میں عشر واجب نہیں ہے(۱)، البتہ اگر دانہ پڑنے سے پہلے ہی فصل کاٹ لی ہو تو اس پر عشر واجب ہے، کیوں کہ اس صورت میں فصل ہی مقصود ہے غلہ نہیں۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : (ویجب العشر فی عسل وإن قل ۔۔۔۔۔۔۔ إلا فیما لا یقصد به استغلال الأرض نحو حطب وقصب فارسی وحشیش وتبن وسعفٍ واشنان وشجر قطن وباذنجان وبذر بطیخ)۔در مختار۔ قال ابن عابدین: أشار إلی ما اقتصر علیه المصنف کالکنز وغیره، لیس المراد به ذاته بل لکونه من جنس ما لا یقصد به استغلال الأرض غالباً، وإن المدار علی القصد حتی لو قصد بذلک وجب العشر۔(۲۴۳/۳، باب العشر)
ما فی ” الهدایة “ : أما الحطب والقصب والحشیش لا تستنبت فی الجنان عادة بل تُنقّٰی عنها، حتی لو اتخذها مقصبة أو مشجرة أو منبتاً للحشیش یجب فیها العشر، والمراد بالمذکور القصب الفارسی، أما قصب السکر، وقصب الذریرة ففیهما العشر، لأنه یقصد بهما استغلال الأرض بخلاف السَعَف والتبن لأن المقصود الحب والثمر دونهما۔
(۲۰۱/۱۔۲۰۲، باب زکاة الزروع والثمار، الفتاوی الهندیة:۱۸۶/۱، الباب السادس فی زکاة الزرع والثمار، البحر الرائق :۴۱۵/۲، باب العشر:)
(۲) ما فی” الشامیة “ : قوله : (وتبن) قال فی الفتح: لو فصله قبل انعقاد الحب وجب العشر فیه، لأنه صار هو المقصود۔(۲۴۳/۳)
(احسن الفتاوی :۳۵۴/۴، فتاوی حقانیه :۵۸۳/۳)
