بھیک مانگنے کو پیشہ بنالینا

مسئلہ:

بعض لوگوں نے مسجدوں اور ہوٹلوں کے باہر ، اسی طرح ٹریفک سگنلوں اور دیگر گزرگاہوں پر، بھیک مانگنے کو اپنا پیشہ بنالیا ہے، جب کہ شریعت کا فرمان یہ ہے کہ جس شخص کے پاس ایک دن کی غذا موجود ہے، یا وہ صحیح اور تندرست ہے ، کما کر اپنی گزر بسرکرسکتا ہے، اس کے لیے بھیک مانگنا اور سوال کرنا حلال نہیں ہے، اور جس شخص کو مانگنے والے کی یہ حالت معلوم ہو، اس کےباوجود وہ اسے کچھ دیدے،تو وہ مستحق ثواب ہونے کے بجائے گناہگار ہوگا، کیوں کہ اس نے حرام کام پر اعانت کی ، اور فقہ کا قاعدہ ہے کہ : ” جیسے حرام کام کرنا گناہ ہے، ایسے ہی اس پر اعانت بھی گناہ ہے۔“

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الشامیة “ : لا یحل أن یسأل شیئًا من له قوت یومه بالفعل أو بالقوة کالصحیح المکتسب، ویأثم معطیه إن علم بحاله، لإعانته علی المحرم۔

(۴۲/۳، باب الجمعة، مطلب في الصدقة علی سُوّال المسجد، بیروت، التنویر وشرحه مع الشامیة: ۳۰۵/۳-۳۰۶، کتاب الزکاة، باب المصرف)

ما في ” الشامیة “ : قوله: (کالصحیح المکتسب) لأنه قادر بصحته واکتسابه علی قوت الیوم ۔ بحر ۔ اه ۔ (۳۰۶/۳، باب المصرف، بیروت)

ما في ” البحر الرائق “ : قوله: (ولا یسأل من له قوت یومه) أي لا یحل سوٴال قوت یومه لمن له قوت یومه لحدیث الطحاوي: ” من سأل الناس عن ظهر غنی فإنه یستکثر من جمر جهنم ، قلت: یا رسول الله! وما ظهر غنی؟ قال: أن یعلم أن عند أهله ما یغدّیهم وما یعشیهم “ ۔۔۔۔ فإنه لا یحلّ سوٴال القوت له إذا لم یکن له قوت یومه، لأنه قادر بصحته واکتسابه علی قوت الیوم فکأنه مالک له۔ (۴۳۶/۲-۴۳۷، کتاب الزکاة، باب المصرف)

ما في ” المقاصد الشرعیة “ : إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرمة، وتکون واجبة إذا کان المقصد واجبا۔ (ص:۴۶)

اوپر تک سکرول کریں۔