بیمار مرغی ،بکری یاگائے ذبح کرنا

مسئلہ:

کبھی کوئی مرغی، بکری یا گائے بیمار ہوتی ہے، تو ان کے مالک یہ سوچ کر کہ اگر اس کو یوں ہی چھوڑدیا جاتا ہے، تو وہ مرجائے گی، اور کسی کے منہ میں بھی نہ جاسکے گی، اس لیے اس کو ذبح کردیتے ہیں، اس سلسلے میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس طرح کے جانور کو ذبح کرتے وقت ، اگر اتنا خون بہا جو صحت مند مرغی، بکری یا گائے کا بہتا ہے، یا بوقتِ ذبح اس نے حرکت کی، تو وہ حلال ہے، اوراگر اتنا خون نہیں بہا ، یا اس نے کوئی حرکت نہیں کی تو اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : ذبح شاة مریضة فتحرکت أو خرج الدم حلت، وإلا لا، إن لم تدر حیاته عند الذبح ۔ الدر المختار ۔ قال الشامي: قال في البزازیة: وفي شرح الطحاوي: خروج الدم لا یدل علی الحیاة، إلا إذا کان یخرج کما یخرج من الحي عند الإمام، وهو ظاهر الروایة۔ (۴۴۷/۹، کتاب الذبائح)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وإن ذبح شاة أو بقرة فخرج منها دم ولم تتحرک وخروجه مثل ما یخرج من الحي أکلت عند أبي حنیفة رحمه الله تعالی، وبه نأخذ۔

(۲۸۶/۵، کتاب الذبائح)

ما في ” البزازیة علی هامش الهندیة “ : إن تحرک بعد الذبح وخرج دم مسفوح یحل، وإن تحرک ولم یخرج أو بعکسه یحل أیضاً، وإن عدمتا لا یحل۔

(۳۰۵/۶، کتاب الذبائح)

(فتاویٰ محمودیه:۲۶/۲۰۷، مکتبه محمودیه میرٹھ)

اوپر تک سکرول کریں۔