بینک سے زائد ملنے والی رقم کا حکم!

(فتویٰ نمبر: ۱۵۰)

سوال:

ایک شخص بینک میں ۵۰/ ہزار روپے ایک سال کے لیے، بینک کی ایک خاص اسکیم کے تحت جمع کررہا ہے، بینک کی اس اسکیم کے تحت اس شخص کو ہر مہینے ۵/ ہزار روپے ملیں گے،اور اس طرح پورے ایک سال تک پیسے ملتے رہیں گے، اب اگر حساب لگایا جائے تو اس کی جمع کی ہوئی رقم قسط وارہر مہینہ ملنے والی ہے،جو اس کی جمع کی ہوئی رقم سے کم ہے، تو:

بینک سے زائد ملنے والی رقم کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

یا پھر اس شخص کو بینک سے جو زائد رقم مل رہی ہے اس کا کیا کرنا چاہیے؟

خود استعمال کرے یا غریبوں اورمسکینوں میں بلانیتِ ثواب تقسیم کرے، یا کوئی اور صورت ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

بینک (Bank) سے زائدملنے والی رقم سود کے حکم میں ہے، جو حرام ہے(۱)، اس رقم کو خود استعمال نہ کرے بلکہ غریبوں اور مسکینوں میں بلانیتِ ثواب صدقہ کردے(۲)،لیکن ایک مسلمان کے لیے عا م حالات میں بینک (Bank)سے اس طرح کا لین دین کرنا، جائز نہیں ہے۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” إعلاء السنن “ : کل قرض شرط فیه الزیادة فهو حرام بلا خلاف ، قال ابن المنذر : أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادة أو هدیة فأسلف علی ذلک أن أخذ الزیادة علی ذلک ربا ، قال رسول اللّٰه ﷺ : ” کل قرض جر منفعة فهو ربا “ ۔ (۵۶۶/۱۴ ، کتاب الحوالة)

ما في ” فقه السنة “ : لا یجوز أن یرد المقترض إلی المقترض إلا ما اقترضه منه أو مثله تبعًا للقاعدة الفقهیة القائلة : کل قرض جر نفعًا فهو ربًا ۔ (۱۹۲/۳ ،باب القرض)

(۲) ما في ” رد المحتار “ : الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده علیهم، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل له ، ویتصدق به بنیة صاحبه ۔ اه ۔

(۲۲۳/۷ ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد ، مطلب فیمن ورث مالاً حرامًا)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : والسبیل في المعاصي ردها ، وذلک ههنا برد المأخوذ إن تمکن من رده بأن عرف صاحبه ، وبالتصدق به إن لم یعرفه لیصل إلیه نفع ماله إن کان لا یصل إلیه عن ماله ۔(۳۴۹/۵ ، الباب الخامس عشر في الکسب)

(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿أَحَلَ اللّٰه الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ ۔ (سورة البقرة: ۲۷۵)

ما في ” السنن الکبری للبیهقي “ : ” کل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربوا “ ۔ (۵۷۳/۵)

ما في ” الصحیح لمسلم “ : ” لعن رسول اللّٰه ﷺ آکل الربوا وموکله، وکاتبه وشاهدیه، وقال : هم سواء“ ۔ (۲۷/۲ ، باب الربوا) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۱۲/۴ھ  

اوپر تک سکرول کریں۔