بیوہ عورت کا ایامِ عدت میں ضروریات کے لیے گھر سے نکلنا!

(فتو یٰ نمبر: ۹۶)

سوال:

زید کا انتقال ہوچکا ہے، اس کی بیوی ہندہ اپنے شوہر کے مکان ہی میں اپنی عدت کے ایام پورے کررہی ہے، لیکن اس کے خورد ونوش ودیگر ضروریات کے لیے کوئی انتظام نہیں ہے، مرحوم شوہر کے مکان والے عدت کے ایام تک خرچ برداشت نہیں کرسکتے ہیں، اس صورت میں ہندہ شوہرہی کے مکان پر رہ کر، گولی بسکٹ وغیرہ کی چھوٹی سی دوکان ڈال کر گھر سے باہر نکل کر اپنی ضروریات پوری کرسکتی ہے یا نہیں؟ اخراجات کی اس کے علاوہ اور کوئی شکل نہیں ہے اور اس کے بچے بھی چھوٹے ہیں۔

الجواب وباللہ التوفیق:

صورتِ مسئولہ میں ہندہ دن کے وقت، یعنی طلوعِ آفتاب کے بعد سے مغرب سے قبل قبل بقدرِ ضرورت، طلبِ معاش کے لیے گھر سے نکل سکتی ہے، لیکن رات سے پہلے پہلے گھر واپس آنا ضروری ہے اور رات گھر ہی میں گزارنی ضروری ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (ومعتدة موت تخرج في الجدیدین وتبیت) أکثر اللیل (في منزلها)؛ لأن نفقتها علیها ، فتحتاج للخروج، حتی لو کان عندها کفایتها صارت کالمطلقة فلا یحل لها الخروج ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (في الجدیدین) أي اللیل والنهار، فإنهما یتجددان دائمًا ۔ ط ۔ اه ۔۔۔۔۔۔۔ قال في الفتح : والحاصل أن مدار حل خروجها بسبب قیام شغل المعیشة فیتقدر بقدره ، فمتی انقضت حاجتها لا یحل لها بعد ذلک صرف الزمان خارج بیتها ۔ اه ۔

(۲۲۴/۵، ۲۲۵، کتاب الطلاق ، باب العدة ، مطلب : الحق أن علی المفتي أن ینظر في خصوص الوقائع ، ط : بیروت)

ما في ” الهدایة “ : والمتوفی عنها زوجها تخرج نهارًا وبعض اللیل ، ولا تبیت في غیر منزلها ۔۔۔۔۔۔ وأما المتوفی عنها زوجها فلأنه لا نفقة لها ، فیحتاج إلی الخروج نهارًا لطلب المعاش وقد یمتد إلی أن یهجم اللیل (یدخل اللیل) ۔

(۴۳۴/۲ ، کتاب الطلاق ، باب العدة ، النتف في الفتاوی :ص/۲۱۳، کتاب العدة ، باب ما یجب علی المرأة في العدة ، الاختیار لتعلیل المختار : ۲۱۶/۳ ، کتاب الطلاق ، فصل فة الإحداد ، بدائع الصنائع :۴۴۷/۴ ، کتاب الطلاق ، فصل في أحکام العدة ، مجمع الأنهر شرح ملتقی الأبحر : ۱۵۴/۲ ، ۱۵۵ ، کتاب الطلاق ، باب العدة) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۶/۱۷ھ

الجواب صحیح: عبد القیوم اشاعتی۔۱۴۲۹/۶/۱۷ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔