مسئلہ:
بعض جگہ یہ دستور ہے کہ اگر بیوہ دوسرا نکاح کرلے تو اُسے مرحوم شوہر کی میراث سے محروم کردیتے ہیں، اس لیے وہ بیچاری حصہٴ میراث محفوظ رکھنے کی خاطر دوسرا نکاح نہیں کرتی، او رعمر بھر بیوگی کے مصائب برداشت کرنے کے ساتھ- مرحوم شوہر کے اعزّہ واقرِباء کے شب وروز – طرح طرح کے مظالم کا تختہٴ مشق بنی رہتی ہے، یاد رکھئے! یہ سراسر ظلم اور حرام ہے، کیوں کہ نکاحِ ثانی کرنے کے باوجود، از رُوئے شرع بیوہ بدستور اپنے حصہٴ میراث کی مالک رہتی ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : قال الله تبارک وتعالی: ﴿ولهنّ الربع مما ترکتم إن لم یکن لکم ولد، فإن کان لکم ولد فلهنّ الثمن مما ترکتم من بعد وصیة توصون بهآ أو دین﴾۔
(سورة النساء:۱۲)
ما في ” السراجي في المیراث “ : أما للزوجات فحالتان: الربع للواحدة فصاعدة عند عدم الولد وولد الإبن وإن سفل، والثمن مع الولد أو ولد الإبن وإن سفل۔
(ص:۱۱۔۱۲، الشریفیة شرح السراجیة:ص/۲۱، فصل في النساء، ط: المکتبة الأسعدي سهارنپور، الفتاوی الهندیة:۴۵۰/۶، کتاب الفرائض، الباب الثاني في ذوي الفروض المقدرة في کتاب الله تعالی ستة)
(فتاویٰ محمودیہ:۴۷۱/۲۰، احکامِ میت:ص/۱۷۴)
