مسئلہ:
بعض لوگ کفارہٴ ظہار یا کفارہٴ افطار کی ادائیگی میں ایک ہی وقت میں ایک سو بیس مسکینوں کو کھانا کھلادیتے ہیں، اور یوں خیال کرتے ہیں کہ ان کا کفارہ ادا ہوگیا، جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ ان کا کفارہ ادا نہیں ہوا، کیوں کہ کفارہ میں عدد کے ساتھ مقدار کا لحاظ بھی شرط ہے، یعنی ساٹھ مسکینوں میں سے ہر ایک کو دو وقت پیٹ بھر کھانا کھلانا ، مذکورہ صورت میں چونکہ عدد کی شرط تو پائی گئی لیکن مقدار کی شرط نہیں پائی گئی ،لہذا کفارہ ادا نہیں ہوا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الدرالمختار مع الشامیة “:أطعم مائة وعشرین أی کل واحد أکلة واحدة لم یجز إلا عن نصف الإطعام، فیعید علی ستین منهم غداء وعشاء، ولو فی یوم آخر للزوم العدد مع المقدار ۔ در مختار۔ قال الشامی تحت قوله : (للزوم العدد مع المقدار) وهو الستون مع المقدار وهو الأکلتان المشبعتان فی الإباحة والصاع أو نصفه فی التملیک ۔
(۱۱۷/۵، قبیل باب اللعان، الدر المنتقی شرح الملتقی:۱۲۶/۱، کتاب الطلاق، قبیل باب اللعان، البحر الرائق:۱۸۳/۴۔۱۸۴، کتاب الطلاق، فصل فی الکفارة)
ما فی ” الموسوعة الفقهیة “ : أما مقدار طعام الإباحة عندهم، فأکلتان مشبعتان أی یشترط أن یغدی کل مسکین ویعشیه۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لأنها أکلتان مقصودتان، أما إذا غدی واحدا وعشی واحدا آخر لم یصح۔ (۱۰۲/۳۵، بدائع الصنائع :۲۶۱/۴، کتاب الکفارات، باب مقدار الطعام)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : لو أطعم مائة وعشرین مسکیناً دفعة واحدة فعلیه أن یطعم أحد الفریقین أکلة مشبعة أخری،کذا فی السراج الوهاج۔
(۵۱۴/۱، کتاب الطلاق، الباب العاشر فی الکفارة)
