تاجروں کا رقم وصولی کے لیے قاصد کو علامت دیکر بھیجنا

مسئلہ:

بعض تاجر (Business Men) اپنے کسی نوکر کو کسی کے پاس اپنی فروخت کردہ چیزوں کی قیمت وصول کرنے کیلئے بھیجتے ہیں، تو مرسَل الیہ (Despatchelto) شخص اس سے کوئی علامت کا مطالبہ کرتا ہے، اس لئے تاجر اپنے نوکر کے پاس پانچ روپئے یا دس روپئے کا نوٹ یا اور کوئی علامت دیتے ہیں، اور فون پر مرسَلْ الیہ کو اس کی اطلاع کردیتے ہیں، کہ ہمارے آدمی کے پاس اس نمبر کا پانچ یا دس کا نوٹ ہے، مرسل الیہ اس نوٹ کو دیکھ کر قاصد کو واجب الاداء رقم دیتا ہے، مرسَل الیہ کا کسی علامت کا مطالبہ کرنا اور مرسِل کا اپنے قاصد کے پاس کسی علامت کا دینا دونوں عمل شرعاً جائز ہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” منهاج المسلم للشیخ أبی بکرجابرالجزائري“ : حکم الوکالة: الوکالة جائزة بالکتاب والسنة، قال تعالی:﴿والعاملین علیها﴾۔(سورة التوبة:۶) أی الصدقة وهم وکلاء الإمام فی جمع الزکاة، وقال تعالی :﴿فابعثوا أحدکم بورقکم هذه إلی المدینة فلینظر أیها أزکیٰ طعاماً فلیأتکم برزق منه﴾۔(سورة الکهف : ۱۹) فقد وکلوا أحدهم فی شراء الطعام لهم، وقال الرسول ﷺ لأنیس : ” اغد یا أنیس إلی امرأة هذا فإن اعترفت فارجمها “۔ فوکّل رسول الله ﷺ أنیساً فی التحقیق فی الدعوی ثم فی إقامة الحدّ، وقال أبوهریرة : وکلنی النبی ﷺ فی حفظ زکوٰة رمضان، وقال النبی ﷺ لجابر: ”إذا أتیت وکیلی فخذ منه خمسة عشر وسقاً، وإن ابتغی منک آیة أی علامة فضع یدک علی ترقوتک “۔

(ص: ۳۱۲، الباب الخامس فی المعاملات، الفصل الرابع)

اوپر تک سکرول کریں۔