مسئلہ:
بعض لوگ رمضان المبارک میں عمرہ کے لیے جاتے ہیں، تو وہاں اور لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ نمازِ تراویح کی حالت میں قرآن کریم کھولتے ہیں، اور امام کی قرأت چیک کرتے ہیں، تو یہ لوگ بھی نماز کی حالت میں ویسا ہی کرتے ہیں، جب کہ احناف کے نزدیک نماز کی حالت میں قرآن کریم دیکھ کر پڑھنا ، اور قرآن کریم دیکھ کر امام کی قرأت سننااور اسے چیک کرنا یہ عملِ کثیر اور تعلُّم من الغیر (دوسرے سے سیکھنا) ہے، جس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے، لہٰذا اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : ویفسدها انتقاله من صلاة إلی مغایرتها وقراءته من مصحف أي ما فیه القرآن مطلقا لأنه تعلم ۔ تنویر ۔ وفي الشامیة: قال الشامي رحمه الله تعالی: قوله: (مطلقا) أي قلیلا أو کثیرا إماما أو منفردا أمیا لا یمکنه القراءة إلا منه أو لا۔ قوله: (لأنه تعلم) ذکروا لأبي حنیفة في علة الفساد وجهین: أحدهما: ان حمل المصحف والنظر فیه وتقلیب الأوراق عمل کثیر، والثاني: انه تلقن من المصحف فصار کما إذا تلقن من غیره۔
(۳۸۳/۲۔۳۸۴، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها، قبیل مطلب في التشبه بأهل الکتاب، النهر الفائق:۲۷۲/۱، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها، الفتاوی التاتارخانیة:۳۶۴/۱، الفصل الخامس في بیان ما یفسد الصلاة وما لا یفسد، تبیین الحقائق:۳۹۷/۱۔۳۹۸، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۴۷۳۲۰)
