مسئلہ:
آج کل یہ طریقہ رائج ہے کہ کسی دینی ادارہ یا جماعت کا کوئی رکن انتقال کرجاتا ہے، تو متعلقہ ادارہ یا جماعت کے افراد مجلسِ تعزیت منعقد کرکے اپنے اِس مرحوم رکن کو خراجِ عقیدت وتحسین پیش کرتے ہیں، تعزیتی قرارداد منظور کرتے ہیں، اور اس کے لیے دعاءِ مغفرت بھی کرتے ہیں، بسا اوقات اس طرح کی مجلسیں اورجلسے تین دن، یعنی مدتِ تعزیت گزر جانے کے بعد ہوتے ہیں، تو یہ تعزیت؛ شرعی تعزیت نہیں، بلکہ اُس ادارہ یا جماعت کا مرحوم کے ساتھ اپنے تعلق اور اُس کے پسماندگان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار ہے، اور اس سے بھی چوں کہ میت کے اعزہ واقارِب کو فی الجملہ صبر وتسلّی ہوجاتی ہے، لہٰذا شرعاً اِس کی گنجایش ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” جامع الترمذي “ : عن عبد الله عن النبي ﷺ قال: ” من عزَّی مُصابًا فله مثلُ أجره “۔
(۱۶۴/۲، رقم:۱۰۷۳، کتاب الجنائز، باب ما جاء في أجر من عزّی مصابًا، ط: بیروت)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : التعزیة لغة – مصدر عزّی؛ إذا صبّر المصابَ وواساه ولا یخرج المعنی الاصطلاحي عن المعنی اللغوي، وقال الشربیني: هي الأمر بالصبر والحمل علیه بوعد الأجر، والتحذیر من الوِزر والدعاء للمیت بالمغفرة وللمصاب بجبر المصیبة ۔۔۔۔۔۔۔ لا خلاف بین الفقهاء في استحباب التعزیة لمن أصابته مصیبة، والأصل في مشروعیتها خبر ” من عزّی مصابا فله مثل أجره “ ۔ (۲۸۷/۱۲، تعزیة، الحکم التکلیفي)
ما في ” رد المحتار “ : قوله: (وبتعزیة أهله) أي تصبیرهم والدعاء لهم به۔ قال في القاموس: العزاء؛ الصبر أو حسنه۔
(۱۴۷/۳، باب صلاة الجنازة، قبیل مطلب في الثواب علی المصیبة، ط: بیروت)
(فتاویٰ محمودیہ: ۲۵۶/۹، ط: کراچی)
