تقسیمِ ترکہ بطور مناسخہ

(فتویٰ نمبر: ۱۲۳)

سوال:

۱-مرحوم سلیمان کا انتقال ہوا، انہوں نے اپنے ترکہ میں ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے نقد، اور اپنے ورثا میں چار بیٹے(اسماعیل، احمد، ایوب، محمد) اور ایک بیٹی (حوا) چھوڑی۔

۲-اس کے بعد مرحوم ایوب کا انتقال ہوا، اُنہوں نے اپنے پس ماندگان میں ایک زوجہ مسمات” شریفہ“، دو بیٹے(اقبال ، شاکر) اور ایک بیٹی مسمات” امینہ“ چھوڑی۔

۳-بعدہ مرحوم احمد چل بسے، انہوں نے اپنے پس ماندگان میں ایک زوجہ مسمات امینہ ، ایک بیٹی فاطمہ، اور ایک بیٹا (ابراہیم) چھوڑا۔

۴-بعدہ مرحومہ امینہ نے وفات پائی، اپنے پس ماندگان میں ایک بیٹا (ابراہیم) اور ایک بیٹی (فاطمہ) چھوڑی۔

۵-بعدہ مرحوم ابراہیم اس دنیا سے رخصت ہوئے اور اپنے پس ماندگان میں زوجہ (حوا)،تین بیٹیاں (صبیحہ، سمیہ ، ہاجرہ) اور ایک بہن(فاطمہ) چھوڑی۔

۶-مرحومہ حوا بی کا انتقال ہوا ،انہوں نے اپنے پس ماندگان میں چھ لڑکے اور تین لڑکیاں چھوڑی۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ رقم ان ورثا کے مابین کس طرح تقسیم ہوگی ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-اولاً: مرحوم سلیمان کا کل ترکہ (10,500,000)ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے، نو حصوں میں تقسیم ہوکر ان کے چار بیٹوں (اسماعیل، احمد، ایوب، محمد)میں سے ہر ایک کو تیئیس لاکھ تینتیس ہزار تین سو تینتیس روپے تینتیس پیسے(23,33,333.33)،اور بیٹی حوا کو گیارہ لاکھ چھیاسٹھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ روپے چھیاسٹھ پیسے (11,66,666.66)از روئے شرع ملیں گے۔(۱)

۲-ثانیاً: مرحوم ایوب کا کل ترکہ تیئیس لاکھ تینتیس ہزار تین سو تینتیس روپے تینتیس پیسے (23,33,333.33)،چالیس حصوں میں تقسیم ہوکر،بیوی شریفہ کو دولاکھ اکیانوے ہزار چھ سو پینسٹھ روپے(291,665)(۲)، اور دونوں بیٹوں(اقبال، شاکر) میں سے ہر ایک کو آٹھ لاکھ سولہ ہزار چھ سو باسٹھ روپے(8,16,662)، اور بیٹی امینہ کوچار لاکھ آٹھ ہزار تین سو اکتیس روپے (4,08,331) از روئے شرع ملیں گے۔(۳)

۳-ثالثاً: مرحوم احمد کا کل ترکہ تیئیس لاکھ تینتیس ہزار تین سو تینتیس روپے تینتیس پیسے (23,33,333,33) ، بیس حصوں میں تقسیم ہوکر ان کی بیوی امینہ کو دولاکھ اکیانوے ہزار چھ سو چھیاسٹھ روپے چو بیس پیسے(2,91,666.24)(۴)،اوربیٹے ابراہیم کو تیرہ لاکھ اکسٹھ ہزار ایک سو نو روپے بارہ پیسے(13,61,109.12)، اور بیٹی فاطمہ کو چھ لاکھ اسی ہزار پانچ سو چون روپے چھپن پیسے (6,80,554.56)از روئے شرع ملیں گے۔(۵)

۴-رابعاً: مرحومہ امینہ کا کل ترکہ دولاکھ اکیانوے ہزار چھ سو چھیاسٹھ روپے چوبیس پیسے (2,91,666.24) تین حصوں میں تقسیم ہوکر، بیٹے ابراہیم کو ایک لاکھ چورانوے ہزار چار سو چوالیس روپے سولہ پیسے(1,94,444.16)، اور بیٹی فاطمہ کو ستانوے ہزار دو سو بائیس روپے آٹھ پیسے(97,222.08) ازروئے شرع ملیں گے۔(۶)

۵-خامساً: مرحوم ابراہیم کا کل ترکہ پندرہ لاکھ پچپن ہزار پانچ سو ترپن روپے اٹھائیس پیسے (15,55,553.28)،جو انہیں ان کے والد مرحوم احمد اور ان کی والدہ مرحومہ امینہ سے ملا،کل چوبیس حصوں میں تقسیم ہوکر ، ان کی بیوی حوا کو ایک لاکھ چورانوے ہزار چار سو چوالیس روپے سولہ پیسے (1,94,444.16)(۷) ، اور ان کی تینوں بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کوتین لاکھ پینتالیس ہزار چھ سو اٹھہترروپے پچاس پیسے (3,45,678.50)،اور ان کی بہن فاطمہ کو تین لاکھ چوبیس ہزار تہتر روپے چھ پیسے (3,24073.06)از روئے شرع ملیں گے۔(۸)

۶-سادساً: مرحومہ حوا بی بی کا کل ترکہ گیارہ لاکھ چھیاسٹھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ روپے چھیاسٹھ پیسے (11,66,666.66)پندرہ حصوں میں تقسیم ہوکر، چھ بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو ایک لاکھ پچپن ہزار پانچ سو پچپن روپے پچپن پیسے(1,55,555.55)، اور تینوں بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو ستہتر ہزار سات سو ستہتر روپے ستہتر پیسے(77,777.77) ازروئے شرع ملیں گے۔(۹)

الحجة علی ما قلنا :

(۹،۸،۶،۵،۳،۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰه فِيْ أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾۔(سورة النساء : ۱۱)

(۷،۴،۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدࣱ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُم﴾۔(سورة النساء : ۱۱)

واللہ أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔یکم شعبان المعظم، ۱۴۲۹ھ

اوپر تک سکرول کریں۔