تمباکو ،گٹکھا اور گل کاشرعی حکم کیا ہے؟

(فتویٰ نمبر: ۵۴ )

سوال:

۱-ابراہیم نامی عالم صاحب ایک مسجد میں امامت کرتے ہیں، لیکن عوام کا کہنا ہے کہ ان کو تمباکو کھانے اور گل گھسنے کی عادت ہے، جب کہ وہ پانچ وقت کی امامت کرتے ہیں اور صبح مکتب بھی پڑھاتے ہیں، اور مکتب پڑھاتے وقت بھی تمباکو اور گٹکھے کا استعمال کرتے ہیں، تو کیا ان کا نماز اور مدرسہ پڑھانا درست ہے؟

۲-گٹکھا کھانا (فارغ وقت میں) کیسا ہے؟

۳-تمباکو اور تپکیر کا استعمال شرعاً کیسا ہے؟

۴-گل کا گھسنا کیسا ہے؟

۵-دانتوں کے درد پر ایک مَلَم دانتوں پر گھسا جاتا ہے جس میں نشہ ہوتا ہے، اس کی شریعت میں اجازت ہے یا نہیں ؟

۶-گٹکھا،تمباکو، تپکیر، گل اور نشہ والا پان جس میں تمباکو ہو، مدرسہ ،یا ڈیوٹی کے اوقات میں کھانا کیسا ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۴/۳/۲/۱-تمباکو کی اقسام واغراض اور خواص مختلف ہوتی ہیں؛ اس لیے اس کے استعمال میں مختلف اقوال ہیں،لیکن غالباً اس کا استعمال غرضِ صحیح یعنی علاج وغیرہ کے لیے نہیں ہوتا ہے، اور شریعتِ اسلامیہ اپنے ماننے والوں کو ہر ایسی چیز کھانے اور پینے سے منع کرتی ہے، جو انہیں فوراً یا آہستہ آہستہ ہلاک کردے۔

 ارشادِ باری تعالیٰ : ﴿وَلا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا﴾ ۔ ”اپنے آپ کو قتل مت کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر مہربان ہے۔ “ (سورة النساء : ۲۹)اور﴿وَلا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلیَ التَّھْلُکَةِ﴾ ۔” اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کوہلاکت میں مت ڈالو۔“ (سورة البقرة : ۱۹۵) اس پر شاہد ہے؛ اس لیے اگر تمباکو کے استعمال سے نشہ ہو، تو اس کا استعمال حرام ہے، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے : ” کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ “ ۔ ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔“ (صحیح مسلم: ۱۶۷/۲، سنن أبی داود: ۵۱۸/۲، صحیح بخاری : ۹۰۴/۲) اور اگر نشہ نہ ہو تب بھی اس میں مال کو ضائع کرنا اور دوسروں کو تکلیف پہنچانا، دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں؛ اس لیے اس کا استعمال ممنوع ومکروہ ہے۔

تمباکو اورگٹکھا کھانا، یا گل کا دانتوں پر گھسنا، اگرچہ اس میں نشہ نہ ہو تب بھی اس میں مال کو ضائع کرنااور دوسروں کو تکلیف پہنچانا، دونوں چیزیں لازم آتی ہیں اور نبی کریم علیہ السلام نے ہر دو چیزوں سے منع فرمایا ہے۔(۱)

اور جوامام تمباکو کھاتا ہے اس کے پیچھے نماز درست ہے،لیکن بدبودار منہ لے کر مسجد میں آنا اور نماز پڑھانا مکروہِ تحریمی ہے؛ اس لیے وضو اور مسواک کے ذریعے منہ خوب صاف کرکے مسجد میں آئے، ورنہ فرشتوں کو بھی تکلیف ہوگی۔(۲)

۵-اگر واقعی نشہ آور مرہم کے گھسنے سے دانتوں کا درد زائل ہوتا ہو، اور اس کے علاوہ کوئی مفید دوا (جو اس کے قائم مقام ہو) میسرنہ ہو، تو شریعتِ مطہرہ ضرورةً، بقدرِ ضرورت اس کی اجازت دیتی ہے، حتی الامکان بغیر نشہ والی دوا استعمال کرنی چاہیے۔(۳)

۶-مدرسین اور تمام ملازمین کا معاملہ مدرسے یا کسی ادارے کے ساتھ عقد ِاجارہ کا ہے، مدرسین چوں کہ وقت کے پابند ہوتے ہیں؛ اس لیے وہ اجیرِ خاص ہیں اور اجیر خاص کے لیے وقتِ متعین میں مفوضہ کام کے علاوہ دوسرے کام میں مشغول ہونا درست نہیں، لہٰذا ہر ایسا کام جو مدرسین کے فرائضِ منصبی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی اور حرج کا باعث بنے وہ شرعاً ناجائز ہوگا۔(۴)

علامہ شامی علیہ الرحمہ نے اجیرِ خاص کے لیے وقتِ متعین میں نوافل پڑھنے کی عدمِ اجازت پر علما کا اتفاق نقل کیا ہے، چہ جائے کہ سوال میں مذکورہ چیزیں جائز ہوں۔(۵)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” صحیح البخاري “ : عن المغیرة بن شعبة – رضي اللّٰه عنه – قال : قال النبي ﷺ : ” إن اللّٰه حرم علیکم عقوق الأمهات ، ووأد البنات ، ومنع وهات ، وکره لکم قیل وقال ، وکثرة السوٴال ، وإضاعة المال “ ۔

(۳۲۴/۱ ، کتاب الاستقراض وأداء الدیون ، باب ما ینهی عن إضاعة المال ، ط : بلال دیوبند، و: ص/۴۲۲ ، رقم : ۲۴۰۸ ، ط : دار إحیاء التراث العربي بیروت)

ما في ” مجمع الزوائد “ : ” نهی رسول اللّٰه ﷺ عن إضاعة المال “ ۔ (۱۳۸/۴)

ما في ” السنن لابن ماجة “ : ” لا ضرر ولا ضرار “ ۔ (ص/۱۶۹)

(۲) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن جابر – رضي اللّٰه عنه – قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” من أکل من هذه الشجرة المنتنة ، فلا یقربن مسجدنا ، فإن الملائکة تتأذی مما یتأذی منه الإنس “ ۔(ص/۶۸ ، کتاب الصلاة ، باب المساجد ومواضع الصلاة)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وأکل نحو ثوم ویمنع منه ، کذا کل موذ ، ولو بلسانه ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : وقال ابن عابدین الشامي رحمه اللّٰه تعالی : قوله : (وأکل نحو ثوم) أي کبصل ونحوه مما له رائحة کریهة للحدیث الصحیح في النهي عن قربان آکل الثوم ، والبصل المسجد ، قال الإمام العیني في شرحه علی الصحیح البخاري : قلت : علة النهي أذی الملائکة وأذی المسلمین ۔(۴۳۵/۲ ، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها ، مطلب في الغرس في المسجد)

(الصحیح لمسلم :۲۰۹/۱)

(۳) ما في ” المحیط البرهاني “ : فإن الاشتشفاء بالمحرم إنما لا یجوز إذا لم یعلم أن فیه شفاءً ، أما إذا علم أن فیه شفاء ، ولیس له دواء آخر غیره ، فیجوز الاستشفاء به ۔

(۱۱۷/۶ ، کتاب الاستحسان ، الفصل التاسع في التداوي والمعالجات)

ما في ” رد المحتار “: وفي التهذیب : یجوز للعلیل شرب البول والدم والمیتة للتداوي إذا أخبر طبیب مسلم أن شفائه فیه ولم یجد من المباح ما یقوم مقامه ۔

(۵۵۸/۹ ، کتاب الحظر والإباحة ، الفتاوی الهندیة : ۳۳۵/۵)

(۴) ما في ” اعلام الموقعین “ : وسیلة المقصود تابعة للمقصود وکلاهما مقصود۔ (۱۷۵/۳)

ما في ” المقاصد الشرعیة “ : إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرمًا ، وتکون واجبةً إذا کان المقصد واجبًا ۔ (ص/۴۶)

(۵) ما في ” رد المحتار “ : لیس للأجیر الخاص أن یصلي النافلة ۔ (۹۶/۹ ، کتاب الإجارة)

(الفتاوی الهندیة :۴۱۶/۴) (فتاوی محمودیه: ۵۷۳/۶) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۴/۱۳ھ

اوپر تک سکرول کریں۔