(فتویٰ نمبر: ۱۹۲)
سوال:
آج کل اکثرو بیشتر اشیا، مثلاً: صابون اور کاپیاں وغیرہ پر ذی روح کی تصاویر ہوتی ہیں، اور طلبا وعلما اور عوام وغیرہ ان کاپیوں کو درس گاہوں اور کمروں میں رکھتے ہیں، جب کہ حدیث پاک میں وارد ہوا ہے : ” لا تَدْخُلُ الْمَلائِکَةُ بَیْتًا فِیْه کَلْبٌ وَلا تَصَاوِیْرُ“ ۔ أو کما قال علیہ الصلاة والسلام، تو ان کاپیوں کو درس گاہوں میں رکھنا کیسا ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
جان دار کی تصویر بنانا اور اس کو اپنے گھروں، درس گاہوں اور کمروں میں رکھنا حرام ہے، احادیث میں اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں؛ اس لیے ایسی کاپیوں کے خریدنے سے احتراز کیا جائے جن پر ذی روح کی تصویریں ہوں(۱)،لیکن اگر ضرورةً خرید لے تو اس پر کاغذ وغیرہ کا کوَر (Cover) لگاکر اسے مستور کردے۔ رہی وہ صابون جس کے باکس (Box) پر ذی روح کی تصویر ہو، تو اس کو خریدنے کے بعد اس میں سے صابن نکال کر، اس کے خالی باکس(Box) کو پھینک دے اور صابن استعمال کرلے، کیوں کہ یہ چیزیں انسانی ضرورتوں میں داخل ہیں،اور یہاں ذی روح کی تصویریں خریدنا مقصود نہیں، بلکہ ان کی حیثیت تابع کی ہے ،اور فقہ کا قاعدہ ہے :”امور اپنے مقاصد کے تابع ہوتے ہیں۔“(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن النبي ﷺ قال : ” لا تدخل الملائکة بیتًا فیه کلب ولا صورة “ ۔ (۲۰۰/۲)
ما في ” شرح النووي علی هامش الصحیح لمسلم “ : قال النووي رحمه اللّٰه تعالی: قال أصحابنا وغیرهم من العلماء : تصویر صورة الحیوان حرام شدید التحریم، وهو من الکبائر؛ لأنه متوعد علیه بهذا الوعید الشدید المذکور في الأحادیث، وسواء صنعه بما یمتهن أو بغیره، فصنعته حرام بکل حال؛ لأن فیه مضاهاة لخلق اللّٰه تعالی ، وسواء کان في ثوب أو بساط أو درهم أو دینار أو فلس أو إناء أو حائط أو غیرها۔
(۱۹۹/۲ ، رد المحتار : ۴۱۶/۲ ، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها، مطلب إذا ترد د الحکم بین سنة وبدعة)
ما في ” تکملة فتح الملهم “ : هذا الحدیث یدل علی أن تصویر ذوي الأرواح واتخاذ الصور في البیوت ممنوع شرعًا ، واتفق علیه جمهور الفقهاء۔
(۱۳۴/۱۰ ، ط : دار الموٴید و ط : دار إحیاء التراث العربي بیروت)
(۲)ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم الحنفي “ : الأمور بمقاصدها ۔ (۱۱۳/۱) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۲/۲۹ھ
