(فتویٰ نمبر: ۱۵۹)
سوال:
میں شیرین اختر گلاب خان اس مسئلے میں اُلجھی ہوں کہ اے ٹی ڈی (ATD) (ڈرائنگ کورس ٹریننگ/Drawing Course Training) کروں یا نہ کروں؟ چوں کہ جان داروں کی تصویر سازی کی مذہبِ اسلام اجازت نہیں دیتا ،ایک سال سے میرا یہی پیشہ ہے، اب میں نے وہ ایک سال ضائع کرنے کے لیے ڈی ایڈ(D.Ed) میں داخلے کا ارادہ کیا، مگر چوں کہ سن ۹۴/۹۵ء میں بارہویں مکمل کی تھی،درمیان میں اتنا فاصلہ ہوگیا کہ اب قانون کے مطابق کہیں بھی میرا ڈی ایڈ (D.Ed) میں داخلہ نہیں ہوسکتا، فی الحال میں نہ ڈی ایڈ(D.Ed) کررہی ہوں، نہ اے ٹی ڈی(ATD)، نیز میں اپنے شوہر سے الگ ہو چکی ہوں، مجھے میکے آئے ہوئے تین سال گزرگئے، مگر اب تک شوہر نے طلاق نہیں دیا اور نہ ہی میں نے کوئی کوشش کی، اور نہ ہی میرا شوہر یا اس کے گھر والے لینے کے لیے آئے، بس کچھ دیر کے لیے صرف ساس آئی، مگر میرے شوہر ایسے مزاج کے ہیں جو ماں کو ماں اور باپ کو باپ نہیں سمجھتے، کمائی تو بالکل نہیں روپیہ بھی دیورسے مانگنا پڑتا ہے، مجھ پر شک کرتے ہیں، گھر میں بھی یہی حال ہے کہ گھر میں آنے جانے والوں سے خواہ وہ بھانجہ ہو یا بھتیجہ، دیور ہو یا سسر،بات کرنا منع ہے۔
میں سوچتی ہوں کہ آج نہیں تو کل مزاج تبدیل ہوگا، مگروہ تو بگڑ تا ہی گیا،اسی طرح بیان، اجتماع، قرآن خوانی میں جانے سے بھی منع کرتا ہے،وہ سمجھتا ہے کہ میں راستے میں کچھ( غلط حرکت) کرڈالوں گی، یہ میری مجبوری تھی کہ میں گیارہ سال انتظار کے بعد بھی مایوس رہی (اور میرے شوہر میں سدھار نہ آیا) تو میں گیارہ سال کا سنسار چھوڑنے پر مجبور ہوئی،اب ایسے حالات میں، میں کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہتی، بلکہ خود کچھ ایسا کام کرنا چاہتی ہوں، جس کی مذہبِ اسلام اجازت دیتا ہے،لہٰذا آپ میری ان مجبوریوں کا مجھے حل بتائیں، چوں کہ عمر بھی ۳۱/ سال ہے، اور ایک دوسال باقی ہیں، پھر نوکری بھی نہیں لگ سکتی، کیا کروں؟ میں بہت پریشان ہوں، قوی امید ہے کہ آپ مجبوریوں کا خیال کرتے ہوئے ضرور بالضرور اس مسئلے کا حل بتائیں گے،نیزمجھے کوئی اولادبھی نہیں ہے۔
الجواب وباللہ التوفیق:
مذہبِ اسلام جاندار کی تصویر سازی کو سختی سے منع کرتا ہے، اور تصویر سازوں کے حق میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔(۱)
جب آپ کسی پر بوجھ بننا نہیں چاہتی، تو آپ کے لیے بہتر ہے کہ کوئی دست کاری سیکھ لیں، مثلاً: کپڑا بننا، سوئیٹر(Sweater) بننا، ٹوپی یا دستانے بننا،کپڑا سلنا وغیرہ ،یا پھر عورتوں کی ضرورت کی چیزیں مثلاً: کپڑا، تیل، صابون، چوڑی وغیرہ گھر میں رکھ لیں اور یہ سب سامان دکان کی حیثیت سے ہو، آپ گھر میں رہ کر پردے کے ساتھ تجارت کریں(۲)، اور اگر غیر جان دار کی تصویر سازی کو اپنے لیے ذریعہٴ معاش بنانا چاہتی ہو، تو آپ کے لیے شرعاً اس کی اجازت ہے۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” صحیح البخاري “ : قوله علیه السلام : ” إن أشد الناس عذابًا عند اللّٰه المصورون “ ۔ (۸۸۰/۲ ، باب عذاب المصورین یوم القیامة)
(۲) ما في ” صحیح البخاري “ : ” من صورصورة في الدنیا کلف أن ینفخ فیها الروح یوم القیامة ، ولیس بنافخ “ ۔ (۸۸۱/۲ ، کتاب اللباس ، باب من لعن المصور)
ما في ” المسند للإمام أحمد بن حنبل “ : عن عائشة – رضي اللّٰه عنها – : ” أنها صنعت لرسول اللّٰه ﷺ من صوف سوداء فلبسها ، فلما عرق وجد ریح الصوت فقذفها ، قال : وأحسبه قال : وکانت تعجبه الریح الطیبة “ ۔ (۱۳۹/۱۸ ، رقم : ۲۵۹۹۵)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : لو استغنت الأنثی بنحو خیاطة وغزل یجب أن تکون نفقتها في کسبها کما هو ظاهر ۔
(۲۶۸/۵ ، کتاب الطلاق ، باب النفقة ، مطلب : الصغیر والمُکتسِبُ نفقته في کسبه لا علی أبیه ، ط : دار الکتاب دیوبند)
(۳) ما في ” صحیح البخاري “ : عن سعید بن أبي الحسن قال : کنت عند ابن عباس إذ أتاه رجل فقال : یا أبا عباس ! إني إنسان ، إنما معیشتي من صنعة یدي ، وإني أصنع هذه التصاویر ؟ فقال ابن عباس : ألا أحدثک إلا ما سمعت رسول اللّٰه ﷺ یقول : سمعته یقول : ” من صور صورة فإن اللّٰه معذبه حتی ینفخ فیها الروح ، ولیس بنافخ فیها أبدًا، فربا الرجل ربوة شدیدة واصفر وجهه فقال: ویحک إن أبیت إلا أن تصنع فعلیک بهذه الشجرة ، کل شيء لیس فیه روح “ ۔
(۲۹۶/۱ ، کتاب البیوع ، باب بیع التصاویر التي لیس فیها روح وما یکره من ذلک) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۱۲/۲۳ھ
