مسئلہ:
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ایک بڑے جانور میں جتنے افراد شریک ہوں گے، تمام افراد کے لیے جانور کو ذبح کرتے وقت ”بسم اللہ“ کہنا ضروری ہے، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ جانور میں حصہ لینے والے تمام افراد پر ” بسم اللہ“ پڑھنا ضروری نہیں ہے، صرف ذبح کرنے والے اور اس کے ساتھ چھری پر، یا ذبح کرنے والے کے ہاتھ پر وزن رکھنے والوں پر” بسم اللہ“ کہنا ضروری ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : أراد التضحیة فوضع یده مع ید القصاب في الذبح وأعانه علی الذبح سمی کل وجوبا، فلو ترکها أحدهما أو ظن أن التسمیة أحدهما تکفي حرمت۔ (۴۰۵/۹، کتاب الأضحیة)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : رجل أراد أن یضحي فوضع صاحب الشاة یده علی السکین مع ید القصاب حتی تعاونا علی الذبح ۔ قال الشیخ الإمام: یجب علی کل واحد منهما التسمیة، حتی لو ترک أحدهما التسمیة لا یجوز کذا في الظهیریة۔ (۳۰۴/۵، الباب السابع)
