مسئلہ:
شادیوں کے موسم میں بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جہاں کہیں منڈپ لگا ہوا ہے ، کھانا جاری ہے، تو بیٹھ گئے، کھانا کھالیا اور چل دیئے، جب کہ انہیں نہ تو کھانے کی دعوت ہوتی ہے، اور نہ اجازت، اس طرح بغیر دعوت اور بغیر اجازت (صراحةً یا دلالةً) کے کسی کے یہاں کھانا – کھانا جائز نہیں ہے، اور غیرت وحمیت کے بھی خلاف ہے، حدیث پاک میں ہے: ” جو شخص بغیر دعوت کے کھانے کے لیے گیا ، وہ چور بن کر داخل ہوا ، اور لُٹیرا بن کر واپس ہوا۔“
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: ” من دعي فلم یجب فقد عصی الله ورسوله، ومن دخل علی غیر دعوة دخل سارقًا وخرج مُغیرًا “ رواه أبو داود۔
(ص:۲۷۸، کتاب النکاح، باب الولیمة، الفصل الثاني، رقم الحدیث:۳۲۲۲، سنن أبي داود:ص/۵۲۵، کتاب الأطعمة، باب ما جاء في إجابة الدعوة، رقم الحدیث:۳۷۴۱)
ما في ” مرقاة المفاتیح “ : (دخل سارقًا) لأنه دخل بغیر إذنه فیأثم کما یأثم السارق في دخول بیت غیره۔ (وخرج مغیرًا) أي ناهبًا غاصبًا، یعني وأن اکل من تلک الضیافة فهو کالذي یغیر أي یأخذ مال أحد غصبًا، والحاصل أنه ﷺ أمته مکارم الأخلاق البهیة ونهاهم عن الشمائل الدنیة، فإن عدم إجابة الدعوة من غیر حصول المعذرة یدل علی تکبیر النفس والرعونة وعدم الألفة والمودة، والدخول من غیر دعوة یشیر إلی حرص النفس ودناءة الهمة وحصول المذلة والمهانة، فالخلق الحسن هو الاعتدال بین الخلقین المذمومین۔(۳۴۴/۴، عون المعبود:ص/۱۶۰۴)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ :۳۵۷۱۷)
