جس موبائل فون میں قرآن ڈاوٴن لوڈ کیا گیا اسے بے وضو چھونا

مسئلہ:

موبائل فون میں قرآن کریم کا ڈاوٴن لوڈ (Download) کرنا اور اس قرآن کریم سے پڑھنا اور سننا شرعاً جائز ہے، اور جس وقت اس کی اسکرین (Screen) پر قرآن کریم کے حروف نہ آرہے ہوں ، اسے بے وضو ہونے کی حالت میں اپنے پاس رکھنا یا بیت الخلاء (Toilet) وغیرہ میں لے جانا جائز ہے، کیوں کہ اس حالت میں اس پر قرآن کریم کی تعریف صادق نہیں آتی ہے(۱)، ہاں البتہ جس وقت قرآن کریم کے حروف اسکرین (Screen) پر لکھے ہوئے آرہے ہوں تو اس حالت میں محدث (بے وضوء شخص) اور جنبی (جس پر غسل واجب ہے) کیلئے اس کا چھونا جائز نہیں ہے(۲)، کیوں کہ اس پر قرآن کریم کی تعریف صادق آتی ہے ۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” کشف الأسرار لفخر الإسلام البزدوی “ : أما الکتاب فالقرآن المنزل علی الرسول المکتوب فی المصاحف، المنقول عن النبي ﷺ نقلاً متواتراً بلا شبهة وهو النظم والمعنی جمیعاً فی قول عامة العلماء ۔ (۶۷/۱)

(۲) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿لا یمسّه إلا المطهرون﴾ ۔ (سورة الواقعة :۷۹)

ما فی ” أحکام القرآن لظفر أحمد التھانوی “ : إن المراد به المطهرون من الأحداث ، وهم المکلفون من الآدمیین لما روی أنس بن مالک فی حدیث إسلام عمر قال لأخته : أعطونی الکتاب الذی کنتم تقروٴن ، فقالت : إنک رجس إنه لا یمسه إلا المطهرون ، فقم واغتسل أو توضأ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولذا ذهب الجمهور إلی أنه لا یجوز للمحدث مس المصحف إلا بواسطة شيء منفصل عنه ۔ (۱۰/۵)

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ :لا یجوز مسّ شيء مکتوب فیه شيء من القرآن من لوح أو دراهم أو غیر ذلک إذا کان آیة تامة ۔ هکذا فی الجوهرة النیرة ۔ والصحیح منع مس حواشی المصحف والبیاض الذی لا کتابة علیه ۔ هکذا فی التبیین ۔

(۳۹/۱ ، بدائع الصنائع :۱۴۱/۱، کتاب الطهارة ، مطلب فی مس القرآن ، مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوي :ص/۳۴ ، کتاب الطهارة ، الدر المختار مع الشامیة : ۲۸۲/۱ ، کتاب الطهارة)

اوپر تک سکرول کریں۔