جعلی بل کے ذریعہ میڈیکل اخراجات لینا

مسئلہ:

بعض کمپنیاں اپنے ملازمین کو میڈیکل کے اخراجات دیتی ہیں، جس کے لیے ملازمین کو میڈیکل اخراجات کے بل جمع کرانے ہوتے ہیں، تو بعض ملازمین کبھی تو جعلی بل اور کبھی اصل اخراجات سے زائد بل بنواکر جمع کرتے ہیں، کمپنی کے اکاوٴنٹس ڈپارٹمنٹ کے علم میں بھی یہ باتیں ہوتی ہیں، مگر وہ اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتے، یاد رکھیں! اس طرح کرنا بلاشبہ جھوٹ اور دھوکہ دہی اوردوسرے کے مال کو باطل طریقے سے کھانا ہے، جو شرعاً ناجائز وحرام ہے، بلکہ کمپنی کو واپس لوٹانا لازم ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿ولا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل﴾۔ (سورة البقرة:۱۸۸)

ما في ” تفسیر المظهري “ : ﴿ولا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل﴾ کالدعوی الزور والشهادة بالزور أو الحلف بعد إنکار الحق أو الغصب والنهب والسرقة والخیانة أو القمار وأجرة المغني ومهر البغي وحلوان الکاهن وعسب التیس والعقود الفاسدة أو الرشوة وغیر ذلک من الوجوه التي لا یبیحه الشرع۔ (۲۳۶/۱)

ما في ” شرح المجلة “ : لا یجوز لأحد أن یأخذ مال أحد بلا سبب شرعي، أي لا یحل في کل الأحوال عمدا أو خطأ أو نسیانا، جدا أو لعبا أن یأخذ أحد مال أحد، بوجه لم یشرعه الله تعالی ولم یبحه، لأنه حقوق العباد محترمة لا تسقط ۔۔۔۔۔۔ یجب علیه ردّه قائمًا أو مثله أو قیمته هالکاً ۔ اه ۔ (ص:۲۶۴۔۲۶۵)

(فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ:۱۶۷۷۵)

اوپر تک سکرول کریں۔