مسئلہ:
جعلی کاغذات واَسناد حاصل کرکے ملازمت حاصل کرنا، بلاشبہ گناہ، جھوٹ اور فعلِ حرام ہے، تاہم اس طرح کے کاغذات دکھا کر اگر کوئی ملازمت حاصل کرلے اور وہ مطلوبہ کام کی پوری صلاحیت رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام بھی دے سکتا ہو، تو ایسی صورت میں اس ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی اس کے لیے حلال ہوگی، ورنہ نہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” صحیح مسلم “ : عن أبي هریرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: ” من حمل علینا السلاح فلیس منا، ومن غشّنا فلیس منا “۔
(۷۰/۱، کتاب الإیمان، باب قول النبي ﷺ من غشنا فلیس منا، جامع الترمذي: ۲۴۵/۱، کتاب البیوع، باب ما جاء في کراهیة الغش في البیوع)
ما في ” النتف في الفتاوی “ : والإجارة لا تخلو من وجهین؛ إما أن تقع علی وقت معلوم أو علی عمل معلوم، فإن وقعت علی عمل معلوم فلا تجب الأجرة إلا بإتمام العمل۔
(ص:۳۳۸، کتاب الإجارة، معلومیة الوقت والعمل)
ما في ” الهدایة “ : الأجرة لا تجب بالعقد وتستحق بأحد معان ثلاثة:إما بشرط التعجیل أو بالتعجیل من غیر شرط أو باستیفاء المعقود علیه۔(۲۷۸/۳،باب الأجر متی یستحق)
(کتاب الفتاویٰ:۳۹۳/۵، فتاویٰ حقانیہ:۲۴۷/۶، احسن الفتاویٰ: ۱۹۸/۸، فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ: ۱۵۰۴۶)
