جلوسِ محمدی میں شرکت نہ کرنے والوں کو اسلام سے خارج کرنا!

(فتویٰ نمبر: ۲۱۲)

سوال:

( ۱۲/ ربیع الاول،۱۴۳۰ھ مطابق:۱۰/ مارچ بروز منگل بمقام ریسوڑ ) زید نے جلوسِ محمدی کے موقع پر ایک مجمعِ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ جلوسِ محمدی میں شریک نہیں ہوئے وہ مسلمان ہی نہیں ہیں، آگے خطاب کرتے ہوئے کسی مسئلہ کے تحت یہ بھی کہا کہ میں تم سب کا باپ ہوں، جو بھی مسئلہ پوچھنا ہو میرے پاس آجاوٴ، اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے سے لوگ زید کے متعلق طرح طرح کی باتیں کرنے لگے ہیں، لہٰذا زید کا اس طرح کے کلمات والفاظ استعمال کرنا کیسا ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

زیدکا یہ کہنا کہ جو لوگ جلوسِ محمدی میں شریک نہیں ہوئے وہ مسلمان ہی نہیں ہیں، شرعاً ناجائز اور سخت گناہ کی بات ہے، زید پر ایسے کلاموں سے اجتناب اور توبہ واجب ہے، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو کافر کہے اور وہ واقعةً کافر نہ ہو ،تو وہ کفر اسی کی طرف لوٹ کر آتا ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها الذین اٰمنوا إذا ضربتم في سبیل اللّٰه فتبینوا ولا تقولوا لمن ألقی إلیکم السلٰم لست موٴمنا﴾ ۔ (سورة النساء : ۹۴)

ما في ” الصحیح لمسلم بشرح النووي “ : عن ابن عمر – رضي اللّٰه عنه – أن النبي ﷺ قال : ” إذا کفر الرجل أخاه فقد باء بها أحدهما “ ۔ (۱۲۶/۲ ، کتاب الإیمان)

ما في ” صحیح البخاري “ : عن أبي ذر – رضي اللّٰه عنه – أنه سمع النبي ﷺ یقول :” لا یرمي رجل رجلاً بالفسوق ولا یرمیه بالکفر إلا ارتدت علیه إن لم یکن صاحبه کذلک “ ۔(ص:۱۰۸۶،کتاب الأدب ، رقم : ۶۰۴۵،ط : دار إحیاء التراث بیروت)

ما في ” فتح الباري “ : معناه رجعت علیه نقیصة لأخیه ومعصیة تکفیره ، وهذا لا بأس به ، وقیل : یخشی علیه أن یوٴول به ذلک إلی الکفر کما قیل : ” المعاصي برید الکفر “ ۔ فیخاف علی من أدامها وأصر علیها سوء الخاتمة ۔ (۵۷۲/۱۰، کتاب الأدب)

(فتاویٰ محمودیه :۴۶۸/۲، باب ما یتعلق بتکفیر المسلم) فقط

 والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۲۶/۴/۱۴۳۰ھ

 

 

اوپر تک سکرول کریں۔