جمع بین الصلوتین یعنی دو نمازوں کو ایک ہی وقت میں پڑھنا

مسئلہ:

بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ سفر یا کسی اور عذر سے جمع بین الصلوتین یعنی دو نمازوں کو ایک وقت میں پڑھنا جائز ہے، ان کا یہ خیال درست نہیں، صحیح بات یہ ہے کہ کسی عذر کے سبب بھی جمع بین الصلوتین جائز نہیں ہے، البتہ جمع حقیقی کی بجائے جمع صوری کرلی جائے تو یہ شرعاً جائز ہے۔

جمع صوری یہ ہے کہ ظہر کی نماز کو موٴخر کرکے اس کے اخیر وقت میں اور نماز عصر کو اس کے ابتدائی وقت میں پڑھے، اسی طرح نماز مغرب کو اخیروقت اور عشاء کو اولِ وقت میں پڑھے، اس طرح جمع بین الصلوتین شرعاً جائز بھی ہے اور دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت پر ادا بھی ہوجائیں گی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” شرح معاني الآثار “ : قال أبو جعفر الطحاوي: وأما وجه ذلک من طریق النظر فإنا قد رأیناهم أجمعوا أن صلاة الصبح لا ینبغي أن تقدم علی وقتها ولا توٴخر عنه، فإن وقتها وقت لها خاصة دون غیرها من الصلوات فالنظر علی ذلک أن یکون کذلک سائر الصلوات کل واحدة منهن منفردة لوقتها دون غیرها، فلا ینبغي أن توٴخر عن وقتها ولا تقدم قبله ۔۔۔۔۔ فثبت بما ذکرنا أن ما روینا عن رسول الله ﷺ من الجمع بین الصلوتین أنه تاخیر الأولی وتعجیل الآخرة، وکذلک کان أصحاب رسول الله ﷺ من بعده یجمعون بینهما۔(۱۲۳/۱، کتاب الصلاة، باب الجمع بین الصلوتین کیف هو؟)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولا جمع بین فرضین في وقت بعذر سفر ومطر خلافاً للشافعي، وما رواه محمول علی الجمع فعلا لا وقتاً ۔ الدر المختار ۔ قال الشامي تحت قوله: (ما رواه) أي من الأحادیث الدالة علی التاخیر کحدیث أنس أنه ﷺ کان إذا عجل السیر یؤخر الظهر إلی وقت العصر فیجمع بینهما ویؤخر المغرب حتی یجمع بینها وبین العشاء، وعن ابن مسعود مثله۔ وقال تحت قوله: (محمول) أي فعل الأولی في آخر وقتها والثانیة في أول وقتها۔(۴۵/۲، کتاب الصلاة، مطلب في الصلاة في الأرض المغصوبة)

(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ:۱۱۴۱۶)

اوپر تک سکرول کریں۔