جنازہ میں شرکت کے لیے مسنون اعتکاف توڑنا

مسئلہ:

اگر کوئی شخص رمضان المبارک کے عشرہٴ اخیر کے مسنون اعتکاف میں بیٹھا ہوا تھا، اور اس کے کسی عزیز قریب کا انتقال ہوگیا، تو اسے چاہیے کہ اس کی تدفین میں شرکت کے لیے مسنون اعتکاف کو نہ توڑے، اعتکاف میں بیٹھا رہے، اور وہیں سے اپنے اس عزیز قریب کے لیے ایصالِ ثواب او ردعاء مغفرت کرتا رہے، کیوں کہ تدفین میں شریک ہونا امرِ مستحب ہے، اور اعتکاف میں بیٹھنا مسنون ہے، اور مستحب کا م کے لیے سنتِ موٴکدہ کو توڑ دینا درست نہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الفتاوی التاتارخانیة “ : ولا یخرج لأکله وشربه ولا لعیادة المریض ولا لصلاة الجنازة۔

(۱۳۴/۲، کتاب الصوم، الفصل الثاني عشر في الاعتکاف، الفتاوی الهندیة:۲۱۲/۱، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف وأما مفسداته)

ما في ” عون المعبود “ : وقال أبو حنیفة وأصحابه: لیس ینبغي للمعتکف أن یخرج من المسجد لحاجة ما خلی الجمعة والغائط والبول، فأما سوی ذلک من عیادة مریض وشهود جنازة فلا یخرج له۔ (ص/۱۰۷۸، کتاب الصیام، باب المعتکف یدخل البیت لحاجة، تحت رقم الحدیث: ۲۴۶۷)

ما في ” رد المحتار “ : وعلی هذا یفید لولا عادة مریض أو شهود جنازة وإن تعینت علیه۔

(۴۳۸/۳، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، تبیین الحقائق:۲۲۸/۲، کتاب الصوم، باب الاعتکاف)

ما في ” الفتاوی الولوالجیة “ : ولا یخرج لأکل ولا شرب أو نوم أو لعیادة مریض أو لصلاة الجنازة، لأن الأکل والشرب یمکن في المسجد، وعیادة مریض فضل، وصلاة الجنازة فرض کفایة، فیسقط إذا قام به الغیر۔ (۲۴۱/۱، کتاب الصوم، الفصل الرابع في الاعتکاف وصدقة الفطر)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۴۸۷۹۵)

اوپر تک سکرول کریں۔