جنم دن کی دعوت یا مٹھائی کی تقسیم کرنا کیسا ہے؟

مسئلہ:

برتھ ڈے یعنی جنم دن کی دعوت یا اُس دن مٹھائیوں کی تقسیم کا اہتمام رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلفِ صالحین سے ثابت نہیں، اِن حضرات کے زمانہ میں اس طرح کی فضول خرچی والی تقریبات نہیں ہوا کرتی تھیں، یہ مغربی تہذیب سے متأثر ہونے کا نتیجہ ہے، برتھ ڈے کی دعوت یا اُس دن مٹھائیوں کی تقسیم کو دینی عمل سمجھ کر نہیں کیا جاتا، اس لیے اسے بدعت نہیں کہہ سکتے، کیوں کہ بدعت اُس کام کو کہا جاتا ہے جو دین میں ثابت نہ ہو، اور اس کو دین سمجھ کر کیا جائے(۱)،لیکن غیر مسلموں سے مماثَلت اور غیر اسلامی تہذیب کی مشابَہت کی وجہ سے یہ دعوت اور مٹھائیوں کی تقسیم کراہت سے خالی نہیں(۲)، اِس سے مسلمانوں کو پرہیز کرنا چاہیے، نہ اس طرح کی دعوت میں شرکت کرنی چاہیے، اور نہ اس طرح کی دعوت کا خود نظم کرنا چاہیے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” مرقاة المفاتیح “ : قال النووي: البدعة کل شيء عمل علی غیر مثال سبق، وفي الشرع: إحداث ما لم یکن في عهد رسول الله ﷺ۔

(۳۳۷/۱، کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، الفصل الأول، تحت رقم الحدیث:۱۴۱)

ما في ” کتاب التعریفات للجرجاني “ : البدعة: هي الأمر المحدث الذي لم یکن علیه الصحابة والتابعون، ولم یکن مما یکن مما اقتضاه الدلیل الشرعي۔ (ص:۴۷)

ما في ” البحر الرائق “ : وعرفها الشمني: بأنها ما أحدث علی خلاف الحق الملتقی عن رسول الله ﷺ من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان وجعل دینًا قویمًا وصراطًا مستقیمًا۔ (۶۱۱/۱، باب الإمامة، رد المحتار علی الدر المختار:۳۵۲/۳، کتاب الصلاة، باب الإمامة، مطلب البدعة خمسة أقسام)

(۲) ما في ” سنن أبی داود “ : عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: ”من تشبّه بقوم فهو منهم“۔ (ص:َ۵۵۹، کتاب اللباس)

ما في ” مرقاة المفاتیح “ : ” من تشبّه بقوم فهو منهم “ أي من شبّه نفسه بالکفار مثلا في اللباس وغیره أو بالفساق أو الفجار۔ (۲۲۲/۸، کتاب اللباس، رقم الحدیث:۴۳۴۷)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۲۸۷۴۱)

اوپر تک سکرول کریں۔