جوتا چپل پہن کر مسجد کے فرش پر چڑھنا شرعاً کیسا ہے ؟ !

(فتویٰ نمبر: ۱۳۹)

سوال:

جوتا یاچپل پہن کر مسجد کے فرش پر چڑھنا خلافِ ادب ہے یا کوئی اور حکم ہے؟ نیزجوتے میں نماز ادا کرنے کا حکم بیان فرمائیں!

الجواب وباللہ التوفیق:

(الف) جوتا پہن کر مسجد میں داخل ہونا مکروہ ہے،جیساکہ فتاویٰ ہندیه میں ہے: ” ودخول المسجد متنعلا مکروہ ، کذا في السراجیة “ ۔ (۳۲۱/۵ ، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة)

رہی وہ حدیث جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی نعلین مبارکین پہن کر نماز پڑھنا ثابت ہے،اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نعلین مبارکین پہن کر مسجد میں داخل ہوئے،مگر یہ اس وقت کی بات ہے جب عامةً راستوں میں غلاظت وغیرہ نہیں ہوتی تھی، اورآج وہ حال باقی نہ رہا، نیز مسجدِ نبوی میں دری اورفرش وغیرہ بچھا ہوا نہیں تھا بلکہ کنکری پڑی ہوئی تھی، اور آج مسجدوں میں دریاں وچٹائیا ں، بچھی ہوئی فرش اور ٹائیلس لگا ہوا ہوتاہے،اس لیے فی زماننا جوتے پہن کر مسجد میں داخل ہونا مکروہ وخلافِ ادب ہوگا ،جیسا کہ البحر الرائق میں ہے: ” ودخول المسجد متنعلا من سوء الأدب “ ۔ (۶۱/۲ ، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیہا)

(ب) نعال میں نماز پڑھنا محض مباح اورجائز ہے، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نعال میں نماز پڑھنا جواز اور اباحت کو بتلانے کے لیے ہی تھا، اگرچہ بعض لوگ جیسے صاحب ”احیاء العلو م“ ابوحامد امام محمد الغزالی رحمہ اللہ نے نعال میں نماز کو نہ صرف جائز ومباح بلکہ افضل قرار دیا، (دیکھئے عمدة القاری شرح صحیح البخاری: ۱۷۷/۴) مگر صحیح یہی ہے کہ نعال میں نماز جائز ومباح ہی ہے،مستحب و افضل نہیں، جیساکہ علامہ ابنِ بطال رحمہ اللہ نے جوازِ صلاة فی النعال والی حدیث کے متعلق فرمایا : ” معنی هذا الحدیث عند العلماء إذا لم یکن في النعلین نجاسة فلا بأس بالصلاة فیهما “ ۔

اسی طرح علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ” الصلاة في النعال من الرخص لا من المستحبات ؛ لأن ذلک لا یدخل في المعنی المطلوب من الصلاة “ ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی یہ حدیث : ” خالفوا الیهود فإنهم لا یصلون في نعالهم ولا خفافهم ۔(ابوداود : ص/۹۵، با ب الصلاة في النعلین)سے بھی یہی مفہوم ہوتاہے کہ صلوة فی النعال کا استحباب بربنائے مخالفتِ یہود تھا، یہ نہیں کہ اصلاً نعال میں نماز پڑھنا مستحب ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عارض کی وجہ سے یہ حکم دیا، جیساکہ صاحبِ بذل المجہود علامہ خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ کی یہ عبارت بھی اس پر شاہد ہے : ” دل هذا الحدیث علی أن الصلاة في النعال کانت مأمورة لمخالفة الیهود، وأما في زماننا فینبغي أن تکون الصلاة مأمورًا بها حافیًا بمخالفة النصاری “۔”یہ حدیث اس بات پر دال ہے کہ صلوة فی النعال کا حکم بربنائے مخالفتِ یہود تھا، اس لیے کہ وہ بلانعال نماز پڑھنے کو واجب گردانتے تھے، اور آج مخالفتِ نصاریٰ کے لیے صلوة بلانعال کا حکم ہونا چاہیے، کیوں کہ وہ جوتے پہن کر نماز پڑھتے ہیں۔ “(بذ ل المجهود: ۵۹۹/۳)

خلاصہٴ کلام یہ کہ بلانعال نمازہی اَوفق بالتعظیم والادب ہے۔

(تفصیل کے لیے دیکھیے؛ انعام الباری : ۱۰۶/۳، فتاویٰ محمودیہ :۶۶۷/۶) فقط

واللہ أعلم بالصواب

مفتی محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۱۱/۱۳ھ

 

اوپر تک سکرول کریں۔