مسئلہ:
اگر کسی خاتون کے دو بچے ایک ساتھ پیدا ہوں، پھر دونوں کا ایک ساتھ انتقال ہو، تو دونوں بچوں کی نمازِ جنازہ علیحدہ علیحدہ پڑھنا بہتر ہے، اوراگر ایک ساتھ پڑھی جائے تو یہ بھی درست ہے، لیکن دونوں کی نیت ضروری ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (وإذا اجتمعت الجنائز فإفراد الصلاة) علی کل واحدة (أولی) من الجمع، وتقدیم الأفضل أفضل ، (وإن جمع) جاز۔
(۱۱۸/۳، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، بیروت)
(فتاویٰ رحیمیہ :۳۴/۷)
