مسئلہ:
بعض لوگ کسی بات میں جھوٹے ہونے کے باوجود اپنی سچائی ثابت کرنے کیلئے قرآن کریم کو ہاتھ میں لے کر اُس بات کو کہتے ہیں، اور یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ قسم ہے ، جب کہ محض قرآن کریم کو ہاتھ میں لے کر کوئی بات کہی جائے، تو اس سے قسم نہیں ہوتی ہے، لیکن اس طرح کا عمل دوسروں کو دھوکہ دینا اور کذب بیانی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے حرام ہے ،(۱) ہاں! ہاتھ میں قرآن کریم کو لے کر زبان سے اس کی قسم بھی کھائے کہ میں قرآن کریم کی قسم کھاتا ہوں، جب کہ وہ جھوٹا ہے، تو یہ یمین غموس ہے، جس کا اس دنیا میں کوئی کفارہ نہیں ، توبہ کرتا رہے ، روتا رہے، کہ حق تعالیٰ معاف فرمائیں۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” الصحیح لمسلم “ : عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: ” إن الصدق یهدی إلی البر، وإن البر یهدی إلی الجنة۔۔۔۔۔۔۔ وإن الکذب یهدی إلی الفجور، وإن الفجور یهدی إلی النار، وإن الرجل لیکذب حتی یکتب عند الله کذاباً “۔(۳۲۵/۲، باب قبح الکذب)
ما فی ” الموسوعة الفقهیة “ : اتفق الفقهاء علی أن الغش حرام، سواء أ کان بالقول أم بالفعل، وسواء أ کان بکتمان العیب فی المعقود علیه أو الثمن أم بالکذب والخدیعة، وسواء أکان فی المعاملات أم فی غیرها من المشورة والنصیحة۔(۲۱۹/۳۱، فتاوی حقانیه: ۱۲۵/۶)
(۲) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : لو حلف بالقرآن یکون یمیناً، وبه أخذ جمهور مشائخنا رحمهم الله۔ (۵۳/۲، کتاب الأیمان، الباب الثانی فیما یکون یمیناً وما لا یکون یمیناً)
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولا یخفی أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فیکون یمیناً ۔۔۔۔۔۔۔ وقال العینی: وعندی أن المصحف یمین لا سیما فی زماننا، وعند الثلاثة المصحف والقرآن وکلام الله یمین ۔ الدر المختار ۔ قال الشامی: ونقل فی الهندیة عن المضمرات، وقد قیل هذا فی زمانهم، أما فی زماننا فیمین، وبه نأخذ ونأمر ونعتقد، وقال محمد بن مقاتل الرازی: إنه یمین، وبه أخذ جمهور مشایخنا، فهذا موٴید لکونه صفة تعورف الحلف بها کغرة الله وجلاله۔(۳۸۵/۵۔۳۸۶، کتاب الأیمان، مطلب فی القرآن)
ما فی ” البحر الرائق “ : لا یخفی أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فیکون یمیناً کما هو قول الأئمة الثلاثة۔(۴۸۲/۴، کتاب الأیمان، بیروت، فتاوی محمودیه:۱۷۷/۲۰)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : غموس وهو الحلف علی إثبات شيء أو نفیه فی الماضی أو الحال یتعمد الکذب فیه، فهذه الیمین یأثم فیها صاحبها وعلیه فیها الاستغفار والتوبة دون الکفارة۔(۵۲/۲، کتاب الأیمان، الباب الأول فی تفسیرها)
