(فتویٰ نمبر: ۱۸۴)
سوال:
ایک کمپنی ”جیونا“ نام سے ہے ، اس کی اسکیم یہ ہے کہ اس کو 3500/ روپے دے کر اس کا ممبر بن جاؤ، اس ساڑھے تین ہزار کے عوض کمپنی اسے کچھ بھی نہیں دے گی، لیکن اگر یہ ممبر کم سے کم دو مزید ممبر کمپنی کو بنا دیتا ہے، یعنی یوں کہیے کہ کمپنی کو 7000 /روپے، دوسرے دو فرد سے لاکر دے دیتا ہے، تو کمپنی اسے اس میں سے 600/ روپیہ ادا کرے گی، اور اگر اِن دو ممبروں میں سے ہر ایک ممبر ، دو دو ممبر بنا تا ہے، تو جہاں ان کو -600، 600/ روپے بطورِ کمیشن (Commission) ملیں گے،وہیں پہلے ممبر کو 2400/روپے ملیں گے، اور اگر یہ چار ممبر دودوکے اعتبار سے چار ممبر بناتے ہیں، تو ان چاروں کا کمیشن (Commossion) بھی پہلے ممبر کو 1200/روپے،گذشتہ کے2400/ میں ملاکر، یعنی کل 3800/ روپے ہر مہینے ملتے رہیں گے، اور جیسے جیسے یہ سلسلہ آگے بڑھتا جائے گا،جہاں ممبر بنانے والے کو کمیشن (Commission) ملے گا، وہیں پہلے ممبر کو ہر ممبر پر 300/ روپے کے اعتبار سے کمیشن (Commission)دیا جاتا رہے گا۔
تو کیا اس طرح کی کمپنی (Company) میں جوائن(Join) ہونا صحیح ہے یا نہیں؟نیز ملنے والا پیسہ (Commission) جائز ہے یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
اسکیم کی یہ صورت جوا(۱) اور باطل طریقے سے لوگوں کے اموال کھانے کی حرمتِ صریحہ پر مشتمل ہے (۲)، اس لیے اس کا ممبر بننا اور بنانا دونوں عمل شرعاً ناجائز وحرام ہیں(۳)، اور اس سے ملنے والا کمیشن (Commission) بھی حرام ہے،اس لیے اگر اس کا اصل مالک یا اس کے ورثا معلوم ہوں، توا ن کو لوٹائے، ورنہ فقرا پر بلا نیتِ ثواب صدقہ کردے۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها الذین اٰمنوا إنما الخمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطٰن فاجتنبوه لعلکم تفلحون﴾ ۔ (سورة المائدة : ۹۰)
ما في ” البحر المحیط لأبي حیان الغرناطي “ : بین تعالی تحریم الخمر والمیسر ؛ لأن هذه اللذة یقارنها مفسدة عظیمة ۔۔۔۔۔۔۔ والمیسر فیه أخذ المال بالباطل ۔ (۲۰/۴)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : قال ابن حجر المکي : المیسر القمار بأي نوع کان ۔۔۔۔۔ اتفق الفقهاء علی تحریم میسر القمار ۔ (۴۰۶/۳۹)
(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها الذین اٰمنوا لا تأکلوٓا أموالکم بینکم بالباطل﴾۔(سورة النساء : ۲۹)
ما في ” التفسیر الکبیر للرازي “ : لا تأکلوا أموالکم التي جعلتموها بینکم بطریق غیر مشروع ۔ (۵۶/۴)
(۳)ما في”القرآن الکریم“:﴿ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان﴾۔ (سورة المائدة :۲)
ما في ” أحکام القرآن للتھانوي “ : وینهاهم عن التناصر علی الباطل والتعاون علی المآثم والمحارم ۔
(۹۸/۱ ، الجزء الأول من الحزب الثاني ، ط : إدارة أشرف التحقیق والبحوث الإسلامیة لاهور)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : ما یکسبه المقامرة هو کسب خبیث ، وهو من المال الحرام مثل کسب المخادع والمقامر ، والواجب في الکسب الخبیث تفریغ الذمة منه برده إلی أربابه إن علموا وإلا إلی الفقراء ۔ (۴۰۷/۳۹ ، تحت المیسر) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۲/۲۰ھ
