حاجیوں کے گلے میں ہار

مسئلہ:

بعض دوست واحباب حاجیوں کو رخصت کرنے کے وقت اور واپسی پر ان کے استقبال کے وقت اُن کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالتے ہیں، اُن کا یہ عمل خلافِ سنت ہے، کیوں کہ اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے، اور سلف صالحین سے بھی کہیں ثابت نہیں ہے، اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: ” من أحدث في أمرنا هذا ما لیس منه فهو ردٌّ “۔

(۷۷/۲، کتاب الأقضیة، باب نقض الأحکام الباطلة ومحدثات الأمور)

ما في ” فتح الباري “ : قال ابن المنیر: إن المندوبات قد تنقلب مکروهات إذا رفعت عن رتبتها۔ (۴۳۷/۲)

ما في ” کتاب التعریفات للجرجاني “ : البدعة هي الأمر المحدث الذي لم یکن علیه الصحابة والتابعون ولم یکن مما اقتضاه الدلیل الشرعي۔ (ص:۴۷)

ما في ” رد المحتار “ : ما أحدث علی خلاف الحق الملتقی عن رسول الله ﷺ من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان وجعل دینا قویما وصراطا مستقیما۔

(۲۵۶/۲، باب الإمامة، مطلب البدعة خمسة أقسام)

(فتاویٰ محمودیہ :۵۴۲/۱۵، مکتبہ محمودیہ میرٹھ)

اوپر تک سکرول کریں۔