مسئلہ:
حج تمتع یا قِران میں جو جانور منیٰ میں ذبح کیا جاتا ہے اُسے ” دمِ شکر“ کہتے ہیں اور وہ عید کی قربانی سے الگ واجب ہے(۱)، مگر حاجی پر سفر کی وجہ سے عید کی قربانی واجب نہیں ، البتہ اگر کوئی ۸/ذی الحجہ سے کم از کم ۱۵/ روز قبل مکہ مکرمہ میں آکر رہا تو وہ مقیم ہوگیا، اس لیے قربانی کے دنوں میں اگر وہ صاحبِ نصاب ہو ،تو اس پر ”دمِ شکر“ کے علاوہ عید کی قربانی بھی واجب ہے(۲)، خواہ منیٰ میں ذبح کرے یا اپنے وطن میں کرائے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ویجب الدم علی المتمتع شکراً إلی قوله: وحکم القارن کحکم المتمتع في وجوب الهدي إن وجده۔
(۲۳۹/۱، کتاب الحج، الباب السابع في القران والتمتع)
(۲) ما في ” رد المحتار “ : والذبح له أفضل ویجب علی القارن والمتمتع، وأما الأضحیة فإن کان مسافراً فلا یجب علیه وإلا کالمکي فتجب ۔ کما في البحر ۔
(۵۳۴/۳، کتاب الحج، مطلب في رمي جمرة العقبة، بیروت)
ما في ” الهدایة “ : الأضحیة واجبة علی کل حرّ مسلم مقیم موسر في یوم الأضحی۔(۴۴۳/۴، کتاب الأضحیة، مکتبه یاسر ندیم اینڈ کمپنی)
(احسن الفتاویٰ:۵۷۸/۴، کتاب الحج، فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ:۹۶۶۳)
