مسئلہ:
بسا اوقات ، بس، ٹرین وغیرہ ، کسی حادثہ کا شکار ہوجاتی ہے، تو حکومتِ وقت ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو کچھ رقم دیتی ہے، یہ رقم چوں کہ حکومت کی طرف سے عطیہ ہوتی ہے، ہلاک شدہ کی ملکیت نہیں ہوتی، اس لیے اس میں وراثت کی تقسیم جاری نہیں ہوگی(۱)، بلکہ حکومت ، متأثرہ خاندان کے جس فرد کو بھی یہ رقم دے گی، وہی اُس کا مالک ہوگا۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” حاشیة السراجي في المیراث “ : الترکة واصطلاحه: ما بقي بعد المیت من ماله صافیًا عن تعلق حق الغیر بعینه۔
(ص:۳، مقدمه، رد المحتار:۴۹۳/۱۰، کتاب الفرائض، بیروت)
(۲) ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : وتتم الهبة بالقبض الکامل۔ (۴۹۳/۸، کتاب الهبة، البحر الرائق: ۲۸۴/۷، کتاب الهبة، تبیین الحقائق: ۴۷۱/۷)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند علی شبکة ویب ، رقم الفتوی : ۳۴۷۴)
