مسئلہ:
حجاب مسلمان عورتوں کی عزت وآبروں کی اہمیت اور اس کی عصمت کی حفاظت کا ضامن ہے، عام حالات میں عورتوں کو اپنے گھروں سے نہیں نکلنا چاہیے، بہت زیادہ مجبوری وضرورت کے وقت اگر نکلنا ہی پڑے تو پورے حجاب کے ساتھ نکلے(۱)، اور حجاب بھی ایسا ہو جو پورے جسم کو اچھی طرح چھپاتا ہو، ایسا نہ ہو جس سے جسم کا نشیب وفراز دکھائی دے، اور نہ ایسا ہو کہ مردوں کو اپنی طرف مائل کرے، بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج حجاب بجائے اس کے کہ گناہوں کیلئے مانع اور رکاوٹ بنتا، گناہوں کی دعوت دینے والا ثابت ہورہا ہے، نیز یہ بات بھی قابل غور ہے کہ صرف مردوں کو ہی یہ حکم نہیں ہے کہ وہ غیر محرم عورتوں کو نہ دیکھیں، بلکہ عورتوں کو بھی اس بات کا حکم ہے کہ وہ غیر محرم مردوں کو نہ دیکھیں۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿یآیها النبي قل لأزواجک وبناتک ونساء الموٴمنین یدنین علیهن من جلابیبهن﴾۔ (سورة الأحزاب:۵۹)
ما فی ” أحکام القرآن للجصاص “ : قال أبوبکر: هذه الآیة دلالة علی أن المرأة الشابة مأمورة بستر وجهها عن الأجنبیین وإظهار الستر والعفاف عند الخروج لئلا یطمع أهل الریب فیهن۔ (۴۸۶/۳)
(۲) ما فی ” السنن لأبی داود “ : عن أم سلمة قالت: کنت عند النبیﷺ وعنده میمونة، فأقبل ابن أم مکتوم وذلک بعد أن أمرنا بالحجاب، فقال: ”احتجبا منه، فقلنا: یا رسول الله! ألیس أعمیٰ لا یبصرنا ولا یعرفنا ؟ فقال النبیﷺ:” أفعمیاوان أنتما ألستما تبصرانه“۔(ص:۵۶۸، کتاب اللباس، فی قوله تعالی وقل للموٴمنات یغضضن من أبصارهن)
ما فی ” بذل المجهود “ : فیه دلیل علی أن المرأة لا یجوز لها النظر إلی الرجل، قال النووی: وهو الأصح، وقال الجمهور: یجوز نظر المرأة إلی بدن الأجنبی سوی ما بین سرته ورکبته، إن لم یکن خوف الفتنة، والدلیل علیه حدیث عائشةؓ أنها نظرت إلی الحبشة وهم یلعبون فی المسجد، فوقع التعارض بین الأحادیث بالمنع والرخصة، فقیل: المنع محمول علی الورع، وحدیث الحبشة وغیرها فمحمول علی الرخصة، وقیل: المنع محمول علی خوف الفتنة والرخصة فی حالة الأمن۔(۱۴۰/۱۲)
