مسئلہ:
حجاج کرام کو رخصت کرتے وقت اور واپسی پر اُن کے استقبال کے وقت لوگ جوش وخروش کے ساتھ نعرہٴ تکبیر بلند کرتے ہیں، لوگوں کا اس موقع پر نعرہ لگانا محض نمائش ہے، بلکہ اکثر مواقع میں لہو ولعب کی صورت ہوجاتی ہے، اس لیے اس سے اجتناب ہی بہتر ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿الذین هم یرآؤن﴾۔ (سورة الماعون: ۶)
ما في ” روح المعاني “ : ﴿الذین هم یرآوٴن﴾ أي الناس فیعملون حیث یروا الناس ویرونهم طلباً للثناء علیهم۔ (۴۳۶/۱۶)
ما في ” مرقاة المفاتیح “ : (من سمّعَ) ۔۔۔۔ أي من عمل عملا للسمعة بأن نواه بعمله وشهره لیسمع الناس به ویمتدحوه۔ (سمّع الله به) ۔۔۔۔ أي شهره الله بین أهل العرصات وفضحه علی روٴوس الأشهاد۔(۵۰۳/۹، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعة)
(فتاویٰ محمودیہ :۵۴۲/۱۵، میرٹھ)
