حجِ بدل کی رقم لے کر کسی اور کو کم رقم دیکر حج کرانا

مسئلہ:

بعض لوگ بہت سے لوگوں سے حجِ بدل کی رقمیں لیتے ہیں اور ہرکسی کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ بذاتِ خود ان کی جانب سے حجِ بدل کرینگے ،لیکن وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ رقم کی جو مقدار انہوں نے مؤکلین سے وصول کی،اس سے کم مقدار کسی اور کو دیکر حجِ بدل کراتے ہیں اور باقی رقم خود رکھ لیتے ہیں، شرعاً یہ عمل نا جائز اور غلط طریقے سے لو گوں کے مال کھا نے میں داخل ہے، کیو نکہ مؤکلین کی اس پر رضا مندی نہیں ہوتی۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {یا أیها الذین آمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل} ۔ (النساء :۲۹)

ما في ’’جمع الجوامع‘‘: لقوله علیه السلام: ’’ لا یحل لإمرئ مسلم من مال أخیه شيء إلا بطیب نفس منه ‘‘۔ (۷/۹، رقم الحدیث:۲۶۷۶۰)

ما في ’’الصحیح البخاري‘‘: لقوله علیه السلام: ’’آیة المنافق ثلاث؛ إذا حدث کذب وإذا وعد أخلف وإذا اؤتمن خان‘‘۔ (۱۰/۱)

ما في ’’المبسوط للسرخسي‘‘: لیس لهذا الوکیل أن یؤکل بها غیره ۔(۳۶/۱۹،کتاب الوکالة، فتاوی معاصرة:ص۶۵)

ما في ’’درر الحکام شرح مجلة الأحکام‘‘: بقاعدة فقهیة: ’’لایجوز لأحد أن یأخذ مال أحد بلا سبب شرعي‘‘ ۔ (۹۸/۱)

اوپر تک سکرول کریں۔