مسئلہ:
جس شخص نے کسی کی جانب سے حج بدل کیا ہو، تو یہ حج، حجِ بدل کرانے والے کی طرف سے ہی ادا ہوگا، نہ کہ حج بدل کرنے والے کی طرف سے، لہذا اس پر اپنا فرض حج باقی رہے گا، اور اس پر اس کی ادائیگی لازم ہوگی(۱)، نیز ایسے شخص کو جس پر حج فرض ہوچکا ہو، اور اس نے اب تک اپنا فرض حج ادا نہ کیا ہو، حج بدل کیلئے بھیجنا مکروہ تنزیہی اور اس شخص کا جانا مکروہ تحریمی ہے، گرچہ اس صورت میں حج بدل کروانے والے کا حج ہوجائے گا، حج بدل کیلئے ایسے شخص کو بھیجنا جس نے اپنا فرض حج ادا کرلیا ہو، اور احکام حج سے بھی پوری طرح واقف ہو، اولیٰ اور افضل ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : الصحیح من المذهب فیمن حج عن غیره أن أصل الحج یقع عن المحجوج عنه ولهذا لا یسقط به الفرض عن المأمور۔
(۲۵۷/۱، الباب الرابع عشر فی الحج عن الغیر)
(۲) ما فی ” البحر الرائق شرح کنز الدقائق “ : ثم المصنف لم یقید الحاج عن الغیر بشيء لیفید أنه یجوز إحجاج الضرورة، وهو الذی لم یحج أولاً عن نفسه لکنه مکروه کما صرحوا به، واختار فی فتح القدیر أنها کراهة تحریم للنهی الوارد فی ذلک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والأفضل إحجاج الحر العالم بالمناسک الذی حج عن نفسه، قال العلامة الشیخ محمد ابن عابدین بن عمر فی حاشیة منحة الخالق: (واختار فی فتح القدیر أنها کراهة تحریم) ظاهره أن کلام الفتح فی کراهة الاحجاج ولیس کذلک، بل هو فی الحج نفسه فإنه قال: والذی یقتضیه النظر أن حج الضرورة عن غیره إن کان بعد تحقق الوجوب علیه بملک الزاد والراحلة والصحة فهو مکروه کراهة تحریم علیه، لأنه یتضیق علیه والحالة هذه فی أول سنی الإمکان فیأثم بترکه۔ (۱۲۲/۳۔۱۲۳، کتاب الحج ، باب الحج عن الغیر)
(فتاوی رحیمیه:۸/ ۱۲۲)
