حج کب فرض ہوتا ہے؟

مسئلہ

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارے پاس مثلاً: ۵/یا ۴/ لاکھ روپئے ہوں گے تو ہی حج فرض ہوگا، جبکہ یہ خیال صحیح نہیں ہے، کیوں کہ حج میں زاد وراحلہ کا اعتبار آدمی کے مناسب حال سے کیا جاتا ہے(۱)، اس کی کوئی متعین مقدار نہیں ہے، لہذا اگر کسی شخص کے پاس اس کے اہل وعیال کی ضروریات اور ادائے قرض کے علاوہ اتنی رقم ہے کہ وہ زادو راحلہ پر قادر ہے، تو اس پر حج فرض ہوگا، جیسے اگر کوئی شخص حج کمیٹی سے جانے پر قادر ہے، تو اس پر حج فرض ہوگا(۲)، اس کے لئے اتنی رقم پر قادر ہونا ضروری نہیں ہے جو حج ٹور میں لگتی ہے ۔

الحجة علی ما قلنا:

(۱) ما فی” البحر الرائق “ : وأطلق فی الزاد فأفاد أنه یعتبر فی حق کل إنسان ما یصح بدنه والناس متفاوتون من ذلک، والراحلة۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعتبر فی حق کل إنسان ما یبلغه ، فمن قدر علی رأس زاملة، وهو المسمیٰ فی عرفنا راکب مقتب وأمکنه السفر علیه وجب۔(۵۴۷/۲۔۵۴۸، کتاب الحج)

ما فی ” الفقه الحنفی فی ثوبه الجدید “ : المعتبر بالاستطاعة فی حق کل واحد ما یلیق بحاله عرفاً وعادةً۔(۴۵۱/۱، کتاب الحج، شروط وجوبه)

ما فی ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم الحنفی“ : واعتبروا فی الحج الزاد والراحلة المناسبتین للشخص حتی قال فی فتح القدیر: یعتبر فی حق کل إنسان ما یصح معه بدنه، وقالوا : لا یکتفی بالعقبة فی الراحلة، بل لا بد فی الحج من شق محمل أو رأس زاملة۔(ص:۲۹۹)

(۲) ما فی” الفقه الحنفی فی ثوبه الجدید “ : تقدر الاستطاعة بنفقة السفر المتوسطة بلا إسراف فیها ولا تقتیر فاضلة عن ما لا بد منه من نفقة المسکن وأثاث المنزل ووفاء الدین وفاضلة أیضاً عن نفقة عیاله فی غیابه ۔۔۔۔۔۔ فالذی لا یستطیع السفر بالسیارة مثلاً لا یجب علیه الحج حتی یملک نفقة السفر بالطائرة۔(۴۵۱/۱، کتاب الحج)

اوپر تک سکرول کریں۔