مسئلہ:
آج کل حج کی فلم بنائی جاتی ہے اور حج سے پہلے حاجیوں کو کیمپ میں جمع کر کے انہیں یہ فلم دکھائی جاتی ہے، تاکہ حج کا شوق پیدا ہو، حج کی ادائیگی کاطریقہ معلوم ہو اور حاجی کیلئے ادائیگی ٔ حج میں سہولت وآسانی ہو، اس طرح سے منا سکِ حج کو فلما(فلمی شکل میں بنا )کراسے بتا نا اور کما ئی کا ذریعہ بنا نا شر عاً نا جا ئز ہے، کیو ں کہ اس میں ذی روح کی تصویریں لی جا تی ہے ، جو شرعا ممنو ع وحرام ہے ،حج فلم کے جو فوائد بتلائے جاتے ہیں وہ دیگر طریقوں سے بھی حاصل کئے جاسکتے ہیں ،اس لیے اس طرح کی فلمیں بنا نے، دیکھنے اور دکھانے سے کلی اجتناب ضروری ہے ۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘:{ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان}۔ (المائدة: ۳)
وقوله تعالی: {ومن یعظم شعائر الله فإنھا من تقوی القلوب} ۔ (سورة الحج: ۳۲)
ما في ’’ الصحیح البخاري‘‘: ’’ إن أشد الناس عذاباً عند الله المصورون‘‘۔ (۸۸۰/۲)
ما في ’’ التنویر وشرحه مع الشامیة ‘‘: قال في التنویر: لا تمثال إنسان أو طیر۔ ’’درمختار‘‘۔ قال الشامي: قوله: أو طیر لحرمة تصویر ذي الروح ۔(۴۴۰/۹، الحظر والإباحة)
ما في ’’ قواعد الفقه‘‘: ’’إذا اجتمع الحلال والحرام أو المحرم والمبیح غلب الحرام والمحرم ‘‘۔(ص۵۵)
