حج کے موسم میں خریدو فروخت کرنا

مسئلہ:

حج کے موسم میں خریدوفروخت کرنا جائز ہے(۱)، اگر حج و عمرہ کرنے والے حضرات حرمین سے اس لیے خریداری کرتے ہیں کہ حرمین مبعثِ نبوی ﷺ ہے(۲) ، اور یہاں کے لوگ حرمین کی طرف منسوب ہیں، اس لیے ان کا فائدہ ہوجائے، تو امید ہے کہ اللہ رب العزت اس نسبت کے احترام میں انہیں ثواب عطاء فرمائیں، لیکن اتنی بات یاد رہے کہ اسراف اورفضول خرچی کا حکم ہر جگہ یکساں ہے، جبکہ حرم میں معصیت کا گناہ اور بڑھ جاتا ہے(۳)، اس لیے اسراف سے بچنا لازم ہے ۔(۴)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی” صحیح البخاری “ : قال ابن عباس : ” کان ذو المجاز وعکاظ متجر الناس فی الجاهلیة ، فلما جاء الإسلام کأنهم کرهوا ذلک حتی نزلت : ﴿لیس علیکم جناح أن تبتغوا فضلاً من ربکم فی مواسم الحج﴾ “ ۔ (۲۳۸/۱، کتاب الحج، باب التجار فی أیام الموسم)

(۲) ما فی ” صحیح البخاری “ : عن ابن عباس رضی الله عنه قال :” أنزل علی رسول الله ﷺ وهو ابن أربعین فمکث بمکة ثلاث عشرة سنة ثم أمر بالهجرة ، فهاجر إلی المدینة، فمکث بها عشر سنین، ثم توفی ﷺ “۔ (۵۴۳/۱، باب مبعث النبی ﷺ)

ما فی ”صحیح البخاري“ : ” إنما الأعمال بالنیات “ ۔ (۲/۱، باب بدء الوحي)

ما فی ” الأشباه والنظائر “ : بقاعدة فقهیة : الأمور بمقاصدها ۔ (۱۱۳/۱)

(۳) ما فی ” روح المعانی “ : لأن العمل فی الحرم أفضل، والخطیئة فیه أعظم۔ (۲۰۹/۱۰)

(۴) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿ولا تسرفوا إن الله لا یحب المسرفین﴾ ۔ (سورة الأنعام:۱۴۱)

اوپر تک سکرول کریں۔