(فتویٰ نمبر: ۲۲۶)
سوال:
۱-حدیثِ عزل کا پس منظر کیا ہے؟
۲-کیا اسلام کا عزل کی اجازت دینا یہ تحدید ِنسل کی اجازت دینے کے مترادف نہیں ہے؟
۳-عزل کی اجازت عام حالات میں ہے، یا مخصوص حالات میں؟ اگر مخصوص حالات میں ہے تو وہ کونسے حالات ہیں ؟
۴۔عزل کے بجا ئے دیگر ایسے طریقے اپنائے جا سکتے ہیں جو عزل کا مقصد پورا کر سکتے ہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-حدیثِ عزل کا کوئی خاص پس منظر نہیں، البتہ بعض بعض مواقع پر مختلف طریقے سے عزل کے سلسلے میں حدیثیں وارد ہیں، جو درج ذیل ہیں:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرما تے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ میری ایک باندی ہے جو ہماری خادمہ ہے، میں اس سے جماع کرتاہوں، اوراس کے حاملہ ہو نے کو نا پسند کرتاہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تو چاہے تو اس سے عزل کرلے، کیوں کہ جو مقدر ہو چکا ہے وہ تو پیدا ہوکر رہے گا“، پھر وہ شخص چند دنوں بعد آکر کہنے لگا کہ باندی حاملہ ہو چکی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں نے تجھے خبر کر دی تھی کہ جو مقدر ہو چکا ہے وہ پیدا ہو کر رہے گا۔“(۱)
اسی طرح حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیوں عزل کرتے ہو؟ اس نے کہا: میں اس عورت کے بچے پر اندیشہ کرتا ہوں،(مجھے زیرِحمل بچے کے بارے میں اندیشہ ہے کہ وہ جڑوا نہ ہو جائے،جس کے سبب دونوں کمزور ہوں، یا تو مجھے شیر خوار بچہ پر اندیشہ ہے کہ حمل اس کے لیے نقصان دہ نہ ہو)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر عزل نہ کر نا ضرر رساں اور نقصان دہ ہو تا، تو روم اور فارس والوں (کی اولاد ) کے لیے بھی نقصان دہ ہوتا۔“(۲)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ بنی مصطلق میں ہم لوگوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا، جس کے نتیجے میں عرب کی باندیاں ہمارے حصے میں آئیں، ہمیں عورتوں سے جماع کی خواہش ہوئی، کیوں کہ عورتوں سے دوری ہم پر شاق گزررہی تھی، اور ہم عزل کرنا چاہتے تھے اس خوف سے کہ وہ حاملہ نہ ہو جائیں (تاکہ ان کو بیچ کر مال کمائیں)، بعض نے بعض سے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں، تو کیا ہم آپ سے پوچھنے سے پہلے ہی عزل کر لیں؟ چنانچہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم عزل کرو۔“(۳)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قرآن کا نزول بھی ہوتا تھا اور ہم عزل بھی کرتے تھے۔(۴)
۲-اسلام کا عزل کی اجازت دینا یہ تحدیدِ نسل کی اجازت دینے کے مترادف نہیں ہے، کیوں کہ اسلام نے چند مصلحتوں کے پیشِ نظر ضرورةً عزل کی اجازت دی ہے، وہ مصلحتیں یہ ہیں:
(۱)اگر باندی اپنے آقا کے بچے کی ماں (ام الولد ) بن جائے، تو پھرآقا کو اسے بیچنے کا اختیار نہیں ہوتا، بلکہ وہ آقا کی وفات کے بعد آزاد ہو جاتی ہے؛ اس لیے اسلام نے عزل کی اجازت دی، تاکہ مالک کا نقصان نہ ہو، جیسا کہ غزوۂ بنی مصطلق کے موقع پر صحابہٴ کرام رضی اللہ عنهم نے کیا۔ (۵)
(۲) عز ل سے بعض اوقات زیرِحمل بچے کو نقصان سے بچانا مقصود ہوتا ہے، جیسا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت سے مترشح ہورہاہے۔(۶)
(۳)عزل کرنے کی ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ عورت کے حاملہ ہونے کی وجہ سے شیر خوار بچے کے دودھ کے متأثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، چنانچہ حضرت عبد الرحمن بن بِشر کی روایت میں ایک فقرہ موجود ہے، جس سے اس جانب اشارہ ہوتا ہے کہ” کسی شخص کی بیوی دودھ پلارہی ہوتی ہے، پھر وہ اس سے جماع کرتا ہے اوراس بات کو ناپسند کر تا ہے کہ عورت حاملہ ہو۔ “(۷)
ان تمام مصلحتوں اور ضرورتوں کے پیشِ نظر اسلام نے عزل کی اجازت دی ہے؛ لہٰذا اس کو تحدیدِ نسل کے مترادف گرداننا یہ سراسر نا دانی اور ظلم ہے۔
۳-عزل کی اجازت عام حالات میں نہیں بلکہ مخصوص حالات میں ہے، جو درج ذیل ہیں:
ماں کے لیے ہلا کت کا خطرہ ہو۔
ماں کی دماغی صحت یا جسمانی معذوری یا کسی اور شدید مرض کا اندیشہ ہو۔
ماں بچے کی پرورش کے لائق نہ ہو اور کوئی متبادل نظم بھی نہ ہو۔
بچے کے شدید امراض میں ابتلا کا امکان ہو۔
دو بچوں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھنا مقصود ہو۔
اور فقہائے کرام نے تو اس سے کم تر اَمر میں بھی عزل کی اجازت دی ہے، مثلاً:
جب بچوں سے نافرمانی اور بدسلوکی کا خوف ہو۔
موطوء ہ دارالحرب میں ہو اور اسے بچے کے کفر کا اندیشہ ہو۔
موطوءہ باندی ہو اور اسے بچے کی غلامی کا خوف ہو۔
حمل سے عورت کے بیمار ہونے، یا مرض کے بڑھ جانے کا خطرہ ہو۔
یا شیر خوار بچے کی کمزوری کا اندیشہ ہو۔
یا سوئے زمانہ کی وجہ سے اولاد کے فساد کا اندیشہ ہو۔(۸)
۴-عزل کے بجائے ایسے طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں جو عزل کا مقصد پورا کریں،جیسے نرودھ (Nirodh)، لوپ (Loop)، کنڈوم (Condom)، فرنچ لیدر (French Leather)، مانعِ حمل دوا اور نفخِ روح سے پہلے اسقاط۔ (۹)
لیکن اتنی بات یاد رہے کہ عزل کا مقصد تحدیدِ نسل(Family Planing) یا فقروفاقہ اور مفلسی کا خوف نہ ہو، بلکہ مذکورہ بالا مصلحتوں اور حالات میں سے کوئی مصلحت یا حالت اس کا سبب اور باعث ہو۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن جابر – رضي اللّٰه عنه – أن رجلا أتی رسول اللّٰه ﷺ فقال : إن لي جاریة هي خادمنا وسانیتنا، وأنا أطوف علیها وأنا أکره أن تحمل ، فقال : ” اعزل عنها إن شئت ، فإنه سیأتیها ما قدر لها “ فلبث الرجل ، ثم أتاه فقال: إن الجاریة قد حبلت، فقال : ” قد أخبرتک أنه سیأتیها ما قدر لها “ ۔
(۴۶۵/۱ ، کتاب النکاح ، باب حکم العزل)
(۲) ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن سعد بن أبي وقاص – رضي اللّٰه عنه – أن رجلا جاء إلی رسول اللّٰه ﷺ فقال: إني أعزل عن امرأتي ، فقال له رسول اللّٰه ﷺ: ” لم تفعل ذلک ؟ “ فقال الرجل : أشفق علی ولدھا، أو علی أولادها ، فقال رسول اللّٰه ﷺ : ” لوکان ضارا ضر فارس والروم “ ۔
(۴۶۶/۱ ، کتاب النکاح ، باب جواز الغیلة وهي وطء المرضع وکراهة العزل)
(۳) ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن أبي سعید الخدري – رضي اللّٰه عنه – قال : غزونا مع رسول اللّٰه ﷺ غزوة بالمصطلق ، فسبینا کرائم العرب ، فطالت علینا العُزبةُ ورغبنا في الفداء ، فأردنا أن نستمتع ونعزل ، فقلنا : نفعل ورسول اللّٰه ﷺ بین أظهرنا لا نسأله ، فسألنا رسول اللّٰه ﷺ فقال : ” لا علیکم أن لا تفعلوا ما کتب اللّٰه خلق نَسَمَةٍ هي کائنة إلی یوم القیامة إلا ستکون “ ۔(۴۶۴/۱ ، کتاب النکاح ، باب حکم العزل ، صحیح البخاري : ۷۸۴/۲ ، کتاب النکاح ، باب العزل)
(۴) ما في ” صحیح البخاري “ : عن جابر – رضي اللّٰه عنه – یقول : ” کنا نعزل والقرآن ینزل “ ۔
(۷۸۴/۲ ، کتاب النکاح ، باب العزل ، الصحیح لمسلم : ۴۶۵/۱ ، کتاب النکاح، باب حکم العزل)
(۵) (الصحیح لمسلم :۴۶۴/۱ ، کتاب النکاح ، باب حکم العزل)
ما في ” المنهاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج “ : قوله : (فطالت علینا العُزبة ورغبنا في الفداء) معناه احتجنا إلی الوطء ، وخفنا من الحبل فتصیر أم ولد یمتنع علینا بیعها ۔
(۳۵۶/۵ ، کتاب النکاح ، باب حکم العزل ، الصحیح لمسلم :۴۶۶/۱ ، کتاب النکاح ، باب جواز الغیلة وهي وطء المرضع وکراهة العزل)
(۶) ما في ” مرقاة المفاتیح “ : (فقال الرجل : أشفق) أي أخاف (علی ولدها) أي الذي في البطن لئلا یصیر توأمین فیضعف کل منهما۔
(۳۱۷/۶،کتاب النکاح ، باب المباشرة)
(۷) ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن عبد الرحمن بن بشر الأنصاري قال: فرد الحدیث حتی رده إلی أبي سعید الخدري – رضي اللّٰه عنه – قال : ذکر العزل عند النبي ﷺ فقال: ” وما ذاکم ؟ “ قالوا : الرجل تکون له المرأة ترضع فیصیب منها ویکره أن تحمل منه ۔ الحدیث ۔(۴۶۵/۱ ، کتاب النکاح ، باب حکم العزل)
وما في ” فتح الباري “ : ففي هذه الروایة إشارة إلی أن سبب العزل شیئان ؛ ۔۔۔۔۔۔ الثاني : کراهة أن تحمل الموطوء ة وهي ترضع فیضر ذلک بالولد المرضع ۔
(۳۸۱/۹ ، کتاب النکاح ، باب العزل)
(۸) (قاموس الفقه :۳۸۹/۴)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : والعذر في العزل یتحقق في الأمور التالیه إذا کانت الموطوء ة في دار الحرب وتخشی علی الولد الکفر ، إذا کانت أمة وتخشی الرق علی ولده ، إذا کانت المرأة یمرضها الحمل أو یزید في مرضها ، إذا خشی علی الرضیع من الضعف ، إذا فسد الزمان وخشي فساد ذریته ۔ (۸۲/۳۰ ، عزل)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : رجل عزل عن امرأته بغیر إذنها لما یخاف من الولد السوء في هذا الزمان ، فظاهر جواب الکتاب أن لا یسعه ، وذکر هنا یسعه لسوء هذا الزمان ۔
(۳۵۶/۵ ، کتاب الکراهیة ، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات وفیه العزل وإسقاط الولد)
(۹) ما في ” المحیط البرهاني “ : في فتاوی أهل سمرقند : أنه إذا عزل خوفا من الولد السوء لفساد هذا الزمان فهو جائز من غیر رضا المرأة ۔
(۱۱۸/۴ ، کتاب الاستحسان والکراهیة ، الفصل التاسع عشر في التداوي والمعالجات)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : إن خاف من الولد السوء في الحرة یسعه بغیر رضاها لفساد الزمان فلیعتبر مثله من الأعذار مسقط لإذنها ۔
(۲۵۲/۴ ، کتاب النکاح ، مطلب في حکم العزل وإسقاط الولد)
وما في ” رد المحتار “ : قال في النهر : بقي هل یباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم ، یباح ما لم یتخلق منه شيء ، ولن یکون ذلک إلا بعد مائة وعشرین یومًا ، وهذا یقتضي أنهم أرادوا بالتخلیق نفخ الروح ۔(۲۵۲/۴، کتاب النکاح، مطلب في حکم إسقاط الحمل)
ما في ” المحیط البرهاني “ : إذا أرادت إسقاط الولد فلها ذلک إذا لم یستبن شيء من خلقه ؛ لأن ما لا یستبین شيء من خلقه لا یکون ولدا ۔
(۱۱۸/۴ ، کتاب الاستحسان والکراهیة ، الفصل التاسع عشر في التداوي والمعالجات)
ما في ” فتاوی قاضي خان “ : وإذا أسقطت الولد بالعلاج قالوا : إن لم یستبن شيء من خلقه لا تأثم ۔ (۲۶۹/۴ ، کتاب الحظر والإباحة ، فصل في الختان)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقه کالشعر والظفر ونحوهما لا یجوز ، وإن کان غیر مستبین الخلق یجوز ۔
(۳۵۶/۵ ، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات وفیه العزل وإسقاط الولد)
وما في ” الفتاوی الهندیة “ : امرأة مرضعة ظهر بها حبل انقطع لبنها وتخاف علی ولدها الهلاک ، ولیس لأب هذا الولد سعة حتی یستأجر الظئر یباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم یخلق له عضو ، وخلقه لا یستبین إلا مائة وعشرین یومًا ، أربعون نطفة وأربعون علقة ، وأربعون مضغة ۔
(۳۵۶/۵ ، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات وفیه العزل وإسقاط الولد ، وکذا في المحیط البرهاني : ۱۱۸/۴، کتاب الاستحسان والکراهیة ، الفصل التاسع عشر في التداوي والمعالجات ، کذا في فتاوی قاضي خان : ۲۶۹/۴ ، کتاب الحظر والإباحة ، فصل في الختان) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد:محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۵/۲۰ھ
